آزربائی جان اور آرمینیا کےدرمیان جنگ پر بھارتی پروپیگنڈہ پر پاکستان کا جواب

پاکستان نے بھارت کے وزیر خارجہ کے دو طرفہ تعلقات کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دینے کے بلا جواز اور بے بنیاد الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان دفتر خارجہ کے ترجمان شاہد حفیظ کا صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ بھارت کے وزیر خارجہ کا یہ بیان بھارت کے قابل مذمت رویے کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت اس نے مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات اور نہتے کشمیریوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیاں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ بھارتی فوج کی مقبوضہ کشمیر میں بلاجواز تلاشی اور محاصرے کے علاوہ جعلی مقابلوں میں کشمیری نوجوانوں کو شہید کرنا اور خواتین اور بچوں کو دہشت گرد قرار دینا بھارتی حکومت کے اخلاقی دیوالیہ پن اور ڈھونگ کی عکاسی کرتا ہے، بھارت اس وقت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے بند گلی میں داخل ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو موجودہ صورتحال کا ذمہ دار قرار دینے والے دعویداروں کو دنیا کو یہ بھی بتانا چاہئے کہ کون علاقائی تعاون اور سارک کے عمل کو سبوتاژ کررہا ہے، جس کا 2016 کے بعد سے سربراہ اجلاس اب تک نہیں ہو سکا، راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کی اکھنڈ بھارت اور ہندو توا کی خطرناک پالیسیاں ہیں جس پر بھارت گامزن ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ بھارت اپنی ہندوتوا کی خطرناک پالیسیوں کے تحت کشمیریوں کو مسلسل ظلم و جبر کا نشانہ بنا رہا ہے، اس کے علاوہ بھارت میں اونچی ذات کے ہندوؤں کے علاوہ دیگر اقلیتیں بھی خود کو غیر محسوس کر رہی ہیں۔ مزید برآں بھارت اس وقت قریبی ہمسایہ ممالک کے لئے مسائل پیدا کرنے کی راہ پر بھی گامزن ہے۔

  • ابھی کا پاکستان ہندوستان کا حصہ ہے اور 74 سال بھارت سے الگ رہ کر دیکھ لیا کے دو قومی نظریے میں کوئی سچائی نھے، الٹے قرض کے بوج تلے ڈب گئی. ویسے بھی یہاں سب کو بھارت کے ایجنٹ کا سرٹیفکیٹ مل چکا ہے. آؤ دوبارہ ہم مل کر پرانا بھارت بھال کریں.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >