نواز شریف نے حکومت ہی نہیں بلکہ اپنی جماعت پر بھی حملہ کیا، عدیل وڑائچ

نواز شریف نے حکومت ہی نہیں بلکہ اپنی جماعت پر بھی حملہ کیا، عدیل وڑائچ

صحافی عدیل وڑائچ کے مطابق میاں محمد نواز شریف نے پی ڈی ایم کے جلسے کے دوران خطاب میں پی ڈی ایم کی تحریک پر ہی نہیں بلکہ خود اپنی جماعت پر بھی حملہ کر دیا ہے کیونکہ آنے والے کچھ دنوں میں ان کے خطاب کے بہت ہی برے نتائج سامنے آنے والے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے اپنے خطاب میں ملکی اداروں اور ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے، اس کے متعلق آئین کا آرٹیکل 17 اور اس کی ذیلی شق 2 یہ کہتی ہے کہ ہر وہ شخص جو سروس آف پاکستان میں نہ ہو سیاسی جماعت بنانے کا حق رکھتا ہے، لیکن اگر حکومت  پاکستان یہ سمجھے کہ وہ سیاسی جماعت اس طرح سے آپریٹ کر رہی ہے کہ وہ ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچا سکتی ہے تو وفاقی حکومت ڈیکلریشن دے سکتی ہے اور اس ڈیکلریشن کے جاری ہونے کے پندرہ روز بعد یہ معاملہ سپریم کورٹ کو ریفر کرنا ہوتا ہے، اور اس معاملے پر آنے والا سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کی اس کی شق 202 یہ کہتی ہے کہ اگر کوئی سیاسی جماعت ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہو تو وفاقی حکومت ڈیکلریشن معاملہ 15 روز کے اندر سپریم کورٹ کو بھجوا سکتی ہے، پھر اسی کا سیکشن 212 یہ کہتا ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی ڈیکلریشن سے مطمئن ہو جاتی ہے تو پھر وہ سیاسی جماعت سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق تحلیل ہوجاتی ہے، پھر اسی کا سیکشن 13 یہ کہتا ہے کہ اگر سیاسی جماعت تحلیل ہوجائے تو اس سیاسی جماعت کی ٹکٹ پر الیکشن جیتنے والے تمام پارلیمنٹرین نااہل ہو جاتے ہیں اور ان خالی ہونے والی سیٹوں پر آئین اور قانون کے مطابق دوبارہ سے الیکشنز ہوتے ہیں۔

ٰعدیل وڑائچ کے مطابق نواز شریف کے خطاب کو پلیٹ فارم مہیا کرنے والی سیاسی جماعتوں سے اس وقت قومی ادارے اور موجودہ حکومت بہت ہی ناخوش ہے، اگر نواز شریف اگر جلسوں میں بھی اسی طرح سے خطاب کرتے رہیں گے تو وفاقی حکومت کے ہاتھ ڈیکلئیریشن کیلئے پختہ ثبوت لگ جائے گا۔ نواز شریف کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ لڑنے کے بیان کے بعد سے ان کی اپنی جماعت کے بہت سے لوگ اپنے حلقوں میں کسی موڑ پر مسلم لیگ نون کو چھوڑنے کی باتیں کر رہے ہیں، کیوں کہ نواز شریف کے بیانیے کے مطابق بہت سے ایم این اے اور ایم پی اے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ لڑائی کو افورڈ نہیں کر سکتے۔

عدیل وڑائچ نے کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار اپوزیشن کا اتحاد دیکھا ہے جس کے خطاب کے بعد حکومت کمزور ہونے کی بجائے مزید مضبوط ہوگئی ہے اور حکومت کو مضبوط کرنے کے پیچھے نواز شریف کا جلسے سے کیا گیا خطاب ہے، اس کی واضح مثال وزیراعظم پاکستان عمران خان کا ٹائیگر فورس کے ساتھ کنونشن سینٹر میں کیا گیا خطاب ہے جس میں وہ پہلے سے کئی گناہ زیادہ خود کو پرسکون اور مضبوط محسوس کر رہے تھے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >