ترجمان نواز شریف اور لیگی رہنما محمد زبیر کا کیپٹن صفدر کی گرفتاری پر نیا دعویٰ

کیپٹن (ر) محمد صفدر اعوان نے مزار قائد پر ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگوائے تو ان کے خلاف کراچی کے تھانہ بریگیڈ میں وقاص نامی شہری کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔

آج صبح کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تو لیگی رہنما آپے سے باہر ہو گئے اور ترجمان نواز شریف محمد زبیر بولے کے ان کے خلاف درج ہونے والے مقدمے میں جو دفعات شامل کی گئیں ہیں ان کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔

صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں لیگی رہنما محمد زبیر بولے کے اگر میں ٹریفک کی خلاف ورزی کروں اور مجھ پر اقدام قتل کی دفعات لگا کر مجھے گرفتار کر لیا جائے اور میرے سوال پر کہا جائے کہ آپ نے ٹریفک کی خلاف ورزی کی ہے اس لیے گرفتار کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ کیا کچھ اور غلط طریقے سے جھوٹی دفعات لگا کر گرفتار کر لیا جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری قاتلانہ حملے کے الزام اور دفعات کے تحت عمل میں لائی گئی ہے جو کہ نا قابل قبول ہے۔

  • Very clever indeed. This FIR will benefit Nani and Nana now. Court will throw the FIR into trash bin and Nana will again join hands with Nani to roam freely to disrespect Pakistan, its founder and institutions.

    SIndh government and police never fail to amuse me.

  • یہ کالا کنجر اور میراثی بد صورتا زبیر مکروح غلیظ اور حرامی صورت والا جو اپنے مبینہ باپ جسکو یہ اپنابتاتا ہے میجر جنرل عمر اور یہ اسکی اسحاق ڈار کے ہاتھوں کسی کتے والےکرا کے بھی بی غیرتوں اور کنجروں کی طرح دم دبا کر بیٹھا رہا اور اپنے مبینہ باپ کی بے عزتی پر بھئ بے غیرتوں کنجر وں اور بھڑوؤں کی طرح خاموش رہا جو اد بات کا ثبوت ہے کہ یہ حرامی ہی کوئی غلیظ اور ناپاک خون اپنے غلیظ منحوس اور لعنتی پھٹکا بھرے چہرے کی طرح اسکا باطن بھی اتنا مکروح غلیظ اور ناپاک ہے اور ز حلالی تو ہو ہی نہیں سکتا

  • This is exactly how these crooks take benefits from the system.
    Almost all of NAB cases are like this only.

    Additional charges which cannot be proved are only added to help the accused later in the courts.

    In all such cases where the FIR includes unrelated charges, there should be inquiry (Court Marshall style) against the SHO of the police status.

    Unless and until such culprits would be punished, nothing would get fixed.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >