اینکر پرسن کامران خان نے کیپٹن(ر) صفدر کی گرفتاری کا معاملہ بے نقاب کر دیا

اینکر پرسن کامران خان نے کیپٹن(ر) صفدر کی گرفتاری کا معاملہ بے نقاب کر دیا

گزشتہ روز کراچی میں مزار قائد پر کیپٹن(ر) صفدر نے سیاسی نعرے لگوائے تو سوشل میڈیا پر طوفان مچ گیا، حکومت کی جانب سے بھی شدید ردعمل آیا اور کیپٹن(ر) صفدر کے اس عمل کی مذمت کی گئی جس کے بعد کیپٹن(ر) صفدر ان کی اہلیہ و دیگر200 کارکنان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔

اس مقدمے کی کارروائی کے لیے آج صبح کیپٹن(ر) صفدر کی گرفتاری کی گئی جو کہ اس وقت سوشل میڈیا پر زبان زد عام ہے۔ اسی گرفتاری سے متعلق سینئر صحافی اور اینکر پرسن کامران خان نے ٹوئٹ کیا کہ کیپٹن صفدر گرفتاری پنجاب نہیں سندھ میں پنجاب پولیس نہیں سندھ پولیس نے کی کہا گیا کہ آئی جی سندھ کو اغوا کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب امتحان بلاول بھٹو کا ہے کہ وہ اپنے اس جوش اور ولولے جس کا اظہار کل کر رہے تھے اس کا اظہار اب کریں اس واقعہ پر احتجاج کرتے ہوئے مراد علی شاہ فوری استعفیٰ دیں یا آئی جی کو اغوا کرنے والوں کو گرفتار کرائیں۔

کامران خان نے ایک اور ٹویٹ کیا اور کہا کہ پی ڈی ایم کے اندر ایک کھیل شروع ہو چکا ہے مریم بی بی آئندہ سندھ آنے کی دعوت سوچ کر قبول فرمائیں ناقابل تردید ذرائع بتاتے ہیں کہ آئی جی سندھ مشتاق مہر ہنستے کھیلتے کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے تمام مراحل میں اپنے سینئر اہلکاروں کے ساتھ شریک رہے اغوا وغیرہ کی کہانی مریم نواز کی تسلی کے لئے ہے۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں ایک ٹویٹ کیا کہ قدم بڑھاؤ بلاول بھٹو پی ڈی ایم تمہارے ساتھ ہے۔ کامران خان نے بلاول بھٹو کو کہا کہ ان کے عزیز ترین مہمان عزیز بھٹی تھانے میں بند ہے اور وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔

کامران خان نے لکھا کہ ابھی مراد علی شاہ کا استعفیٰ بھجواؤ سندھ حکومت ختم کرو اور اگر آپ کی مرضی سے کیپٹن(ر) صفدر قید ہے تو سب سے پی ڈی ایم کی فاتحہ پڑھوا دو فیصلہ کرو۔

کامران خان نے اس گرفتاری کو جنگی نقارے سے تشبیہہ دی اور کہا کہ طبل جنگ بج گیا بڑوں کی لڑائی شروع ہے چھوٹا اندر ہوگیا ہے۔ بڑوں کی لڑائی کے اس پہلے دلخراش وار کے بعد سے اب تک پی ڈی ایم کے بڑوں کی سٹی گم ہے کہیں سے کوئی آواز نہیں آئی۔

کیپٹن(ر) صفدر کی گرفتاری پر سابق گورنر سندھ محمد زبیر کی آڈیو کال لیک ہوئی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ انہیں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بتایا ہے کہ آئی جی کو اغوا کرا کے رینجرز کے سیکٹر کمانڈر کے پاس لیجایا گیا جہاں سے گرفتاری کا عمل شروع ہوا اور اس گرفتاری کے لیے آئی جی کو اغوا کیا گیا تھا اور ان پر ایڈیشنل آئی جی کی موجودگی میں گرفتاری کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔

اس آڈیو کال سے متعلق کامران خان نے کہا کہ مراد علی شاہ تردید کریں یا سامنے آئیں۔ افواج پاکستان کے وقار عزت ناموس کی جنگ میں 22 کروڑ پاکستانی اپنی افواج کے سپاہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ قابل فخر آئی ایس آئی اس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اورسیکٹر کمانڈرز کی پشت پر ہیں کرپشن بمقابلہ پاکستان جنگ میں سب جائز ہے۔

  • صبح 6 بجے سندھ پولیس نے گرفتار کیا۔ شام 4 بجے کورٹ میں پیش کیا۔ سندھ حکومت کا
    ایک وزیر تھانے نہیں پہنچا۔ کیا سمجھا جائے؟


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >