بحریہ ٹاؤن کی جانب سے جمع کرائی گئی رقم خرچ کرنے کیلئے 11 رکنی کمیشن تشکیل

بحریہ ٹاؤن کی جانب سے جمع کرائی گئی رقم خرچ کرنے کیلئے عدالت نے 11 رکنی کمیشن تشکیل دے دیا

سپریم کورٹ نے 21 مارچ 2019 کو بحریہ ٹاؤن کراچی کو کلین چٹ دینے کیلئے 460 ارب روپے کی پیشکش قبول کرتے ہوئے نیب کو ریفرنس دائر کرنے سے روک دیا تھا۔ بحریہ ٹاؤن کراچی 460 ارب روپے میں سے اب تک 57 ارب روپے جمع کروا چکا ہے، مکمل ادائیگی 7 سال کے اندر کرنی ہے۔ مرحلہ وار جتنی بھی رقم جمع کروائی جائے گی وہ تمام رقم کمیشن کے ذریعے ہی خرچ کی جائے گی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق یکم ستمبر 2019 سے 3سال تک بحریہ ٹاؤن کراچی کو 2ارب 25کروڑ روپے ماہانہ جمع کرانا ہوں گے جبکہ باقی رقم 4سال میں ادا کرنا ہوگی۔ فیصلے کے تحت بحریہ ٹاؤن آخری 4 سال میں مارک اپ سمیت رقم جمع کرانے کا پابند ہوگا۔
آج بحریہ ٹاؤن کراچی کی جانب سے اب تک جمع کرائے گئے 57 ارب روپے کی رقم سے متعلق سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی جہاں اٹارنی جنرل کی کمیشن تشکیل دینے استدعا منظور کر لی گئی۔

اس کمیشن کا چیئرمین عمل درآمد بینچ کی سفارش پر چیف جسٹس تعینات کریں گے جبکہ ترقیاتی منصوبوں کا انتخاب، لاگت اور فیصلے عمل درآمد بینچ کی منظوری سے مشروط ہوں گے۔

تشکیل دیئے گئے 11 رکنی کمیشن میں گورنر اور وزیر اعلیٰ سندھ کا نمائندہ شامل ہوگا۔ اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل سندھ، چیف سیکرٹری سندھ، صوبائی فنانس سیکریٹری، سینئر ممبر ریونیو بورڈ سندھ، نمائندہ آڈیٹر جنرل، نمائندہ اکاؤنٹنٹ جنرل اور نمائندہ اسٹیٹ بینک شامل ہوگا جبکہ 2 سماجی شخصیات کو بھی شامل کیا جائے گا۔

کمیشن سندھ میں ضرورت کے مطابق نئے ترقیاتی منصوبے شروع کرے گا جبکہ پہلے سے جاری منصوبوں پر بحریہ ٹاؤن کا ملنے والا پیسہ خرچ نہیں ہوسکے گا۔ سپریم کورٹ نے وفاق اور سندھ حکومت کی دائر درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔ سندھ اور وفاق نے بحريہ ٹاون کی جانب سے اب تک جمع کرائے گئے 57 ارب روپے مانگے تھے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >