عدالت کا شہباز شریف کو جیل بھیجنے کا حکم

احتساب عدالت لاہور میں منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت ہوئی ،نیب نے جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر شہباز شریف کو عدالت میں پیش کیا،احتساب عدالت نے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو منی لانڈرنگ کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا،نیب نے عدالت سے شہباز شریف کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی لیکن عدالت نے نیب کی درخواست مسترد کردیا۔

شہباز شریف کی پیشی پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور عدالت آنے والے راستوں کو کنٹینرز اور خاردار تاریں لگا کر بند کردیا گیا تھا، ان کی آمد پر لیگی کارکنوں نے شدید نعرے بازی کی اور گاڑی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔ شہباز شریف 21 روز سے جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں تھے۔

نیب ریفرنس کے مطابق اسٹیٹ بینک کے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی شکایت موصول ہونے پر یہ انکوائری شروع کی گئی تھی۔ 1990 میں شہباز شریف کے اثاثوں کی مالیت 21 لاکھ تھی، 1998 میں ان کے اور ان کی اولاد کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 8 لاکھ ہوگئی، 2018 میں ان کے اثاثوں کی مالیت بے نامی کھاتے داروں اور فرنٹ مین کی وجہ سے 6 ارب کے قریب پہنچ گئی،

شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ نے متعدد بے نامی اکاؤنٹس کے ذریعے کرپشن کرکے 7 ارب سے زائد کے اثاثے بنائے اور اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی۔ اس کیس میں شہباز شریف کے بیٹے سلمان شہباز اشتہاری قرار دیے جاچکے ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >