وفاقی حکومت نے نئے سوشل میڈیا قوانین جاری کردیئے

 

وفاقی حکومت نے نئے سوشل میڈیا قوانین جاری کردیئے

وفاقی حکومت کی جانب سے ضروری ترامیم کے بعد سیٹیزن پروٹیکشن اگینسٹ آن لائن ہارم رولز 2020  جاری کردیئے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق رواں برس کے آغاز میں حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے اس قانون پر انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے اداروں اور شخصیات کی جانب سے تنقید کے بعد اسے واپس لے لیا گیا تھا جسے اب تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت اور مطلوبہ ترامیم کے بعد اس قانون کو (رموول اینڈ بلاکنگ ان لاء فل آن لائن کونٹینٹ) کے نام سے جاری کیا گیا ہے۔

وزارت انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی نے 16 اکتوبر کو یہ قوانین بذریعہ نوٹیفکیشن جاری کیے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ قوانین پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی شق 37 کے تحت منظور کیے گئے اور یہ قوانین فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے۔

ان قوانین کے مطابق سوشل میڈیا ویب سائٹس پر حکومت کے خلاف کسی بھی قسم کا مواد اور کسی بھی شخص کی نقل اتارے جانے والے مواد کی اشاعت یا تشہیر پر پابندی ہوگی، اس کے ساتھ فحش، نازیبا، غلط معلومات پر مبنی مواد کی تشہیر و اشاعت پر بھی پابندی ہوگی۔

سوشل میڈیا قوانین کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کو پابند کیا جائے گا کہ وہ پاکستان کی سلامتی وقار اور دفاع کے خلاف مواد ہٹائے، اس کے ساتھ ساتھ مذہبی منافرت پھیلانے والے، توہین مذہب، توہین رسالت اور پاکستان کی ثقافت اور اخلاقیات سے منافی مواد کی تشہیر پر بھی پابندی ہوگی۔

ان قوانین کے مطابق بچوں کو متاثر کرنے والے، دہشت گردی اور تشدد پر مبنی مواد کے نشر یا تشہیر پر بھی پابندی ہوگی۔

ان قوانین کے تحت گوگل، فیس بک اور ٹویٹر سمیت تمام سوشل میڈیا کمپنیاں تین ماہ کے اندر اپنے نمائندے پاکستان میں تعینات کرنے کے پابند ہوں گے، آئندہ 9 ماہ میں یہ کمپنیاں اپنے دفاتر پاکستان میں کھولیں گی، اور قوانین نافذ ہونے کے 18 ماہ کے اندر پاکستان میں ڈیٹا سرور کی مقامی سطح پر تشکیل دی جائے گی۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>