بلاول بھٹو اور وزیراعلی سندھ نے آئی جی سندھ سمیت اعلیٰ پولیس افسران کو منا لیا

سینئر تجزیہ کار اور اینکر پرسن کامران خان کی جانب سے سندھ کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے  کہا گیا ہے کہ بلاول بھٹو اور وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی میں ہوئے ناخوشگوار واقعات پر آئی جی سندھ سے معذرت کر لی ہے ۔

کامران خان کا اپنے  پیغام میں لکھنا تھا کہ ” ‏سندھ پولیس کی بے چینی دور ہوگئی بلاول بھٹو وزیر اعلی مراد علی شاہ آئی جی سندھ مشتاق مہر کی رہائش گاہ پر پہنچے تمام سینئر پولیس افسران کی تسلی کروائی اور نا خوشگوار واقعات پر دلی معذرت کرلی”

خیال رہے کہ گزشتہ دو دنوں سے شہر قائد میں پیدا شدہ صورت حال کی وجہ سے آئی جی سندھ مشتاق مہر  سمیت سندھ پولیس کے کئی دیگر افسران کی جانب سے  چھٹیوں کے لئے درخواستیں دے دی گئی تھیں جو اب واپس لے لی گئیں ہے۔

  • پولیس آئی جی سمیت جو شخص بھی قانون شکنی کرے ان لوگوں کو نوکریوں سے فارغ کر دیا جائے یہ ہی ریاست کا قانون ھے ایک شخص جرم کرے اور اس کے جرم کے 24 گھنٹوں بعد بھی پولیس ایف آئی آر درج کرنے میں ناکام ایف آئی آر درج نہ ہو تو اس سے بڑے ریاستی ادارے کو حق حاصل ھے کہ وہ جرم کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کا حکم دے اور تمام عملہ جو ایف آئی آر درج کرنے میں سسستی کر رہا تھا سب کو نوکریوں سے فارغ کرے تاکہ اداروں میں بیٹھنے افراد انسان کے بچے بن جائیں۔ یہ کیا سرکاری ملازمین نے ڈارمے شروع کیئے ہوئے ہیں۔ عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہیں اور مراعات وصول کرنے والا جوابدہ ھے

  • Ye jis jis kuttay nay leave ki applications di hain in sub sai reaignstion laiker in sub ko NAB ke hawalay karo aur in sub ke bank records check karo. In sub ko jail main dalo civil Nafarmani ke jurm main. Rashi haram khanay walay kuttay hain ye police walay.

  • یہ سب ٹوپی ڈرامہ تھا جس کا رائیٹر ۔ بے نظیر کا قاتل آصف زرداری تھا۔ ۔کوئی کسی بھڑوے پولیس آفیسر کی عذت کا مسئلہ نہیں تھا۔ بس موقع ملا تھا کسی ادارے کی کھچائی کرنے گا۔ تاکہ بلیک میلنگ۔ سے این آر او کی کچھ راہ نکلے

  • ان تمام پولیس والوں کو نوکریوں سے برخاست کر دیا جائے۔ جو بھی سرکاری اہلکار اور خاص کر پولیس فورسز کے ملازمین جو کہ سرکاری فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی برتیں ان پر پولیس مارشل لاء لگا کر نوکریوں سے فارغ کر دیا جائے تو آئیندہ کیسی میں ریاست سے دھوکے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکے گا

  • سنا ہے سندھ پولیس کے اعلی افسران نے اعصابی تناؤ سے بچنے کیلۓ چھٹی کی درخواست دی ہے !! حیرت ہے !
    ہم اس بدقسمت ملک کے شہری ہیں جہاں کی پولیس کی ہمت اور مورال ڈاؤن ہوجاتا ہے محض انکے ایک اعلی افسر کو زبردستی اسکے گھر سے نکال کر اس کام کے کراے جانے پر جو انہیں بغیر کسی کے کہے کر دینا چاہئۓ تھا ۔
    افسوس ہے اس پولیس کا مورالُ اسُوقت نہ ہلا جب شہر میں روز سینکڑوں ڈکیتیاں اور اغوا ہوتے رہے ، جب روزآنہ مارواۓ عدالت لوگ قتل ہوتے رہے تب کسی افسر کی غیرت نہ جاگی کہ اپنی مسلسل ناکامیوں کی وجہ سے سب افسران اعصابی تناو سے بچنے کیلۓ اجتماعی رخصت کی درخواست دیتے؟ یہ افسران وہ سدھاے ہوے جانور ہیں جو محض اپنے مالک کے اشارے پر سرکس میں سب کو محظوظ کرتے ہیں !!!!!


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >