کیپٹن صفدر کی گرفتاری سے لے کر آرمی چیف کے نوٹس تک،رؤف کلاسرا کی زبانی

سینئر صحافی نے کہا کہ اے پی سی میں نواز شریف کے خطاب کے بعد سے پاکستان میں سیاسی ماحول اتنا گرم ہوگیا ہے کہ عوامی مسائل پر توجہ دینے کا وقت نہ حکومت کے پاس ہے اور نہ میڈیا کے پاس، اس وقت جو معاملہ زیر بحث ہے وہ کیپٹن صفدر کی گرفتاری ہے۔

رؤف کلاسرا نے کہا کہ گرفتاری سے لے کر پولیس پر اٹھنے والے سوالات، پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی کے کردار کے بعد اب اس معاملے میں خبریں آرہی ہیں کہ آرمی چیف اور بلاول بھٹو کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے اور اب آرمی اس معاملے کی انکوائری کروانے جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی پالیسیاں ہمیشہ ان کو نقصان پہنچاتی ہیں پچھلے ایک ماہ کے دوران تحریک انصاف نے جتنا بھی ری ایکشن دکھایا ہے اس کا فائدہ صرف اپوزیشن کو ہوا ہے، نواز شریف کی تقریر کے بعد جب تحریک انصاف کے "سیانوں ” نے غداری کا مقدمہ درج کروایا تو اس میں وزیراعظم آزاد کشمیر کا نام بھی شامل کردیا،اپوزیشن نے یہی کمزور نقطہ اٹھایا اور حکومت کو دباؤ میں لانے میں کامیاب ہوگئی، اور حکومت کو وہ مقدمہ واپس لینا پڑگیا۔

رؤف کلاسرا نے کہا کہ ایسا ہی کچھ کراچی میں ہوا ہے، مگر کراچی والے واقعے میں خود سیاسی جماعت کے سربراہ نے آرمی چیف کو فون کیا اور جب آرمی چیف معاملات کو حل کرنے کیلئے درمیان میں آتے ہیں تو یہی سیاستدان بعد میں کہتے ہیں کہ آرمی کی سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس معاملے میں کودنے کی ضرورت ہی نہیں تھی، بعض معاملات مقدمات اور گرفتاریوں کے بغیر بھی انجام تک پہنچ سکتے ہیں، مزار قائد والے واقعے کے بعد سوشل میڈیا اور میڈیا پر مسلم لیگ ن کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا تھا، انہیں اس واقعے سے ہونے والی سبکی کو زائل کرنے کے طریقے ڈھونڈھنے پڑرہے تھے آپ نے درمیان میں کود کر مقدمہ درج کروا کے ساری توپوں کا رخ اپنی جانب کروالیا۔

دوسری جانب سوالات سندھ پولیس پر اٹھنا شروع ہوگئے ہیں، اگر انہوں نے وزیراعلی سندھ کے نوٹس میں لائے بغیر یہ چھاپہ مارا تھا اور گرفتاری کی تھی توآئی جی سندھ  سے سوال ہونا چاہیے، دوسرا کیپٹن صفدر پر لگائے گئے الزامات اتنے کمزور تھے کہ انہیں فورا ضمانت مل گئی، تیسرا اگر انہوں نے یہ مقدمہ کسی دباؤ پر دیا تو یا وہ دباؤ برداشت نہ کرتے اور اگر کیا تھا تو گرفتاری کے بعد پریس کانفرنس میں بتادیتے کہ ہم پر دباؤ تھا اور کہاں سے تھا۔

رؤف کلاسرا نے کہا کہ آرمی چیف کو بھی معاملے کو سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا کہ ان کی فورس میں نیچے کی سطح کے افسران پولیس کے آئی جی کو اٹھا کر ایسے اقدامات کروائیں گے تو ایسے واقعات آنے والے دنوں میں مزید نقصان کا سبب بنیں گے۔

  • کلاسرا صاحب کپٹن صفدر کی کہانی بلکل ادھوری ہے؟…آپ کو کہانی جاتی امرا کے گیراج سے شروع کرنی چاہئیے تھی. سب جوسی
    حصے خود کھا گئے؟…کمال ہے …

  • یہ لیہ کا افلاطون اپنا چورن اپنے انداز سے بیچنے کی کوشش کر رہا ھے یہ ٹی وی چینلز کے تمام ارسطو بس عوام کو کنفیوژ کرنے کے لئے اپنا چورن پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو بیچ رہا ھے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >