ترسیلات زر میں اضافے پر وزیراعظم عمران خان نے خوشخبری سنا دی

وزیراعظم عمران خان نے پاکستانی عوام کو خوشخبری سنا دی انہوں نے کہا کہ بالآخر ملک درست سمت میں جا رہا ہے اور ملکی تاریخ کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 792 ملین ڈالر سرپلس ہو گیا ہے۔ گزشتہ سال کے دوران اسی کرنٹ اکاؤنٹ کو 1492 ملین ڈالر کے خسارے کا سامنا تھا۔

وزیراعظم نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کیلئےعظیم خوشخبری ہے بالآخرہم درست سمت میں چل نکلےہیں۔ انہوں نے کہا کہ ستمبرمیں 73 ملین ڈالرکے ساتھ کرنٹ اکاؤنٹ پہلی سہ ماہی میں 792 ملین ڈالر سر پلس ہو گیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ سال پہلی سہ ماہی میں1492ملین ڈالرخسارے کا سامنا تھا۔ گزشتہ سال برآمدات29فیصدبڑھیں جبکہ ترسیلات زرمیں 9فیصد اضافہ ہوا۔

  • اصل مسئلہ برامدات کا نہ بڑھنا ہے ہے۔ پچھلے ماہ برامدات ۲۹ فیصد اس سے پچھلے کے مہینے کا مقابل بڑھی ہیں لیکن ن لیگ کے آخری سال کی برامدات کے مقابلے میں کووڈ آنے سے پہلے بھی برامدات گری تھیں اور اب بھی وہ صرف کم ہو کر بڑھی ہیں یعنی ۲۰۱۸ کے مقابل اب بھی برامدات کم ہی ہیں زیادہ نہی۔ ترسیلات زر میں اضافہ ایک خوشی کی بات ہے جسے ہنڈی اور فورسک ایکسچینجرز پر گرفت سخت کرکے مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ کا مثبت ہونا بھی ایک وقتی عمل ہے جس کی بڑی وجہ تیل کی قیمتوں کا کووڈ کی وجہ سے نچلی سطح پر رہنا ہے۔ ایک دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ گرمیوں میں حکومت نے بہت سے تیل اور گیس پر چلنے والے بجلی گھر بند رکھے ہیں جس سے لوڈشیڈنگ بڑھی۔
    اس وقت حکومت کے بڑے دو مسائل ہیں۔ اول مہنگائی اور دوئم سرکلر ڈیٹ۔
    اس حکومت کی سب سے بڑی ناکامی ان کی انفارمیشن سائیڈ کی ناکامی ہے جو لوگوں کو مہنگائی کی اصل وجہ یعنی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی وجہ سے روپئیے کے گرنے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے ہی کی وجہ سے امپورٹس کو کم کرنے کی وجہ سے طلب اور رسد میں پیدا ہونے والا خلا تھا۔ اسے آسان عوامی زبان میں بار بار سمجھایا جاتا تو کم از کم پڑھا لکھا طبقہ تو حکومت کو اس پر برا بھلا نہ کہہ رہا ہوتا۔ حکومت کی بدقسمتی یہ کہ ان کے وزیر بھی اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور صحافی بھی۔ گندم اور چینی پر کسی حد تک حکومت کو موردِ الزام ضرور ٹھہرایا جا سکتا ہے لیکن بحرحال مہنگائی تو دو سال سے بڑھ رہی ہے اور ہر چیز پر بڑھی ہے۔ اور یہ بھی کہ ابھی ایک سال مزید بڑھے گی۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >