ایک دہائی کے بعد پاکستانی ہیلتھ ورکرز خلیجی ممالک روانگی کے لیے تیار

ایک دہائی کے بعد پاکستانی ہیلتھ ورکرز خلیجی ممالک روانگی کے لیے تیار

وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری برائے اوورسیز نے اسلام آباد میں کویت کے سفیر عبدالرحمٰن کے ہمراہ کویت روانہ ہونے والے ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کی تقریب سے خطاب کے دوران بتایا کہ پہلے مرحلے میں 226 ڈاکٹرز، پیرامیڈکس اور نرسز جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید 200افراد کویت جائیں گے۔

معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز نے کہا کہ کویت ایک ہزار سے زائد پاکستانی ہیلتھ پروفیشنلز کو روزگار فراہم کرنے جا رہا ہے، کویت کو افرادی قوت کی برآمد کی بحالی پاکستان کیلئے ایک تاریخی لمحہ ہے، 10سالوں میں کوئی بھی ہنر مند فرد خلیجی ممالک نہیں بھیجا گیا۔

کویت کے سفیر عبدالرحمٰن کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے مشکل وقت میں کویت کو ہیلتھ کیئر پروفیشنلز فراہم کرنے پر حکومت پاکستان کے شکر گزار ہیں، کویت میں قیام کے دوران تمام پاکستانی ہنر مند افراد کو مکمل سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

زلفی بخاری نے کہا خلیج تعاون کونسل کے ممبر ممالک کو ہنرمند افرادی قوت برآمد کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ اس موقع پر معاون خصوصی نے کویتی سفیر کا شکریہ بھی ادا کیا۔

  • Diversifying the people to people relation helps in better relationship between nations as well as relieve you of the pressure of being blackmailed by a single entity which you are so much dependent upon. Just for example almost half of Pakistan’s overseas people are either in KSA or in UAE. Any bad patch in relationship can be devastating for the entire country. There is a famous saying "Don’t put all your balls in one basket”. So it’s good that Pakistan is diversifying it’s relation with other nations.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >