مسکن دھماکا:ہسپتال انتظامیہ کا علاج کے لیے 50 ہزار روپے جمع کروانے کا مطالبہ

مسکن دھماکا:ہسپتال انتظامیہ کا  علاج کے لیے 50 ہزار روپے جمع کروانے کا مطالبہ

شہر قائد میں مسکن چورنگی میں بینک میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ہسپتال انتظامیہ نے انسانیت کو پس پشت ڈال کر سخت پریشانی میں مبتلا زخمیوں کے لواحقین کو اور زیادہ پریشان کردیا، ہسپتال انتظامیہ نے زخمیوں کو فوری طبی امداد دینے کے لئے ان کے لواحقین سے پچاس ہزار روپے ہسپتال میں جمع کروانے کا مطالبہ کیا۔

زخمیوں کے علاج کیلئے ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے پیسے طلب کیے جانے پر مسکن چورنگی میں بم دھماکے کے دوران زخمی ہونے والوں کے لواحقین مشتعل ہوگئے اور ہسپتال انتظامیہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سندھ حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا، جس پر سعید غنی کا کہنا تھا کہ دھماکے میں زخمی ہونے والوں کے فوری علاج کا قانون موجود ہے جس کا ہسپتال انتظامیہ کو پتہ ہونا چاہیے۔

شہر قائد میں ابوالحسن اصفہانی روڈ پر مسکن چورنگی پر نجی بینک میں ہونے والے دھماکے سے متعدد افراد ہلاک و زخمی ہوئے، قریبی نجی اسپتال میں زخمیوں کو  لے جایا گیا، لیکن اہل خانہ کی جانب سے یہ شکایات آئیں کہ طبی امداد سے قبل ان سے رقم طلب کی جارہی ہے، جبکہ بعض زخمیوں کے رشتے دار میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پھٹ پڑے اور کہا کہ ہسپتال انتظامیہ ہمارے پیاروں کا علاج کرنے میں تاخیر کر رہی ہے اور رقم جمع کروانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ کراچی میں 13 اگست 2018 کی شب کو کراچی پولیس کی جانب سے چلی گولی کا نشانہ بن کر جاں بحق ہونے والی معصوم بچی کو فوری طبی امداد فراہم نہ کرنے پر سندھ حکومت نے نوٹس لیتے ہوئے سندھ اسمبلی سے "سندھ اِنجرڈ پرسنز کمپلسری میڈیکل ٹریٹمنٹ (امل عمر) ایکٹ 2019 کا قانون منظور کروایا تھا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >