سپریم کورٹ نے چھ چھ بار سزائے موت کے دو ملزمان کو بری کر دیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں جسٹس منظور ملک کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے چھ چھ بار سزائے موت کے دو ملزمان کے کیس کی سماعت کی، ملزمان شاہ مور اور نور خان پر سوئی ڈیرہ بگٹی میں 2 لوگوں کے قتل کا الزام تھا، ٹرائل کورٹ نے دونوں ملزمان کو چھ بار سزائے موت سنائی تھی۔

ملزمان نے ٹرائل کورٹ کی سزائے موت کی سزا کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا، جس پر بلوچستان ہائی کورٹ نے بھی ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ملزمان کی سزائے موت کی سزا کو برقرار رکھا۔

ڈیرہ بگٹی میں دو افراد کو قتل کرنے والے ملزمان کے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت کو دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ دونوں ملزمان پر 2014ء میں قتل کا الزام تھا، بعد میں چشم دید گواہ اپنے بیان سے مکر گئے، جبکہ مقتولین کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ وقوعہ کے 2 دن بعد بنایا گیا اور قتل کا مقدمہ بھی 4 دن بعد درج ہوا، جس سے بد نیتی ظاہر ہوتی ہے۔

ملزمان کے وکیل لطیف کھوسہ کے دلائل سننے کے بعد اسپریم کورٹ نے دونوں ملزمان کو سزائے موت دینے کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا اور ملزمان کو فوری رہا کرنے کا حکم جاری کردیا۔

  • میرے سالے کو اتقال کیے قریبا پانچ سال ہوگے اس کی کچھ رقم بنک میں تھی اس کے لیے سیکسیشن سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دیے ساڑھے تین سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا یہ ہے ہمارا عدالتی نظام کسی پر الزام لگا اسے جان چھڑاتے زندگیاں گزر جاتی ہیں لاکھوں برباد ہو جاتے ہیں پاکستان میں انصاف صرف امیروں کے لیے ہے

  • جسٹس منظور ملک نے کہا کہ کسی کو چھ بار سزا موت دینا بلکل غیر منتقی ہے اور اس سزا کو کسی پر بھی لا گو نہیں کیا جا سکتا.بندہ تو پہلی سزا موت پر ہی مر جاےگا…تو باقی سزا کس کو دینی ہے
    اسلئے ملزمان کو با عزت بری کیا جاتا ہے.
    لوگ منظور ملک کی عدالت کو ‘ماما منظور کی عدالت’ بھی کہتے ہیں اب اس میں کیا

  • ہمارا قانون کیسا ہے جب ملزمان کو سزا ملی اس وقت قانون واقعی اندھا تھا کہ ججز نے بغیر ثبوت کے سزاۓ موت دے دی یا اب سپریم کورٹ کے ججز نے اپنے ساتھی جج فائز عیسئ کی طرح مال کمایا


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >