وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر اپنی زندگی کے سخت تجربات سے لوگوں کو آگاہ کیا

وزیراعظم عمران خان نے اپنے انسٹاگرام پر ایک طویل پوسٹ شیئر کی جس میں انہوں نے 1984 میں پیش آنے والے ایک واقعے کو بیان کیا، انہوں نے لکھا کہ والدہ کے علاج معالجے کے سلسلے میں لاہور کے میو اسپتال میں ایک ڈاکٹر سے ملنے گیا، اسپتال پہنچ کر ڈاکٹر سے ملاقات کا انتظار کرنے لگا۔

ایک بوڑھے شخص کو چہرے پر مایوسی اور ہاتھ میں ایک پرچی تھامے اپنے سامنے سے گزرتے دیکھا۔ اُس بوڑھے شخص نے ایک ہاتھ میں دوائیں اور ایک ہاتھ میں کوئی پرچی تھام رکھی تھی، چہرے پر تذبذب کی کیفیت لیے پڑھنے سے قاصر اس معمر شخص نے وہاں موجود ڈاکٹر کے معاونین سے پوچھا کہ کیا انہیں جو دوائیں درکار ہیں وہ تمام مل گئیں ہیں، میرے مریض کو کچھ اور تو نہیں چاہیئے؟

View this post on Instagram

When, in 1984, my mother was suffering during the last few weeks of her life, I went to see a doctor in Lahore’s Mayo Hospital to seek his advice. I was sitting in his waiting room when an old man walked in with a desperate expression on his face. It was etched with pain that I immediately recognised as my own and had seen on the faces of my father and my sisters for past few months. He was holding a piece of paper in one hand and some medicines in the other. Being unable to read, he gave it to the doctors assistant and asked him if he had bought all the medication that was needed. The assistant told him there was one missing. “How much will it cost?” asked the old man. When the assistant quoted the figure a despairing and hopeless expression spread across the man’s face and without another word he turned and walked out. I asked the assistant what the problem was. He told me that this old Pashtun from Nowshehra had brought in his brother who was dying of cancer. Because there was no bed for the sick man, he was lying in the corridor. This man would labour all day on a construction site nearby and look after his brother for the rest of the time. Here was I with all my resources and influence, yet I and my family were in such a desperate state – what must this poor man have been going through? I pondered over this during the rest of my mother’s illness, and that old Pashtun’s despairing face kept appearing before my eyes.

A post shared by Imran Khan (@imrankhan.pti) on

ڈاکٹر کے اسسٹنٹ نے اسے بتایا کہ پرچی میں لکھی گئی دواؤں میں سے ایک کم ہے ، بوڑھا آگے سے سوال کرتا ہے کہ یہ دوائیں خریدنے میں کتنا خرچ آئے گا؟ اسے دوائی کی قیمت بتائی گئی تو ایک مایوسی اور نا امیدی اس بوڑھے شخص کے چہرے پر پھیل گئی اور وہ بغیر کچھ کہے چلا گیا۔

وزیراعظم نے مزید بتایا کہ ڈاکٹر کے اس اسسٹنٹ نے انہیں بتایا کہ اس شخص کا بھائی کینسر سے نبردآزما تھا تاہم اسپتال میں جگہ اور بستر نہ ہونے کے باعث راہداری میں ہی علاج کروایا جارہا ہے۔

عمران خان نے اپنی زندگی میں پیش آنے والے اس واقعہ کا خلاصہ لکھتے ہوئے بتایا کہ یہ وہ وقت تھا کہ جب میں اور میری فیملی تمام تر وسائل ہونے کے باوجود عجیب طرح کے خوف کا شکار تھے تو اس معمر شخص پر کیا گزر رہی ہوگی۔
انہوں نے لکھا کہ اپنی والدہ کی بیماری اور علاج کے دوران میں مسلسل اس شخص کے بارے میں سوچتا اور اللہ کا شکر ادا کرتا۔ آج بھی اس بوڑھے شخص کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آتا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >