حاملہ خواتین کی صحت کیلئے مختص ڈیڑھ ارب کی مچھلیاں سندھ کےمگرمچھ کھا گئے

سندھ:حاملہ خواتین کی صحت کیلئے مختص ڈیڑھ ارب کی مچھلیاں کہاں گئیں؟

ورلڈ بینک نےسندھ میں غذائی قلت اور پیدائشی طور پر چھوٹے قد کی بیماری کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کی غریب و مسکین ماؤں کی صحت اور خوراک کیلئے سندھ حکومت کو1.5 ارب روپے کے فنڈز مہیا کیے جن سے سندھ کی خواتین کو مچھلیاں کھلائی جانے کا منصوبہ تشکیل پانا تھا، مگر یہ ڈیڑھ ارب روپے کہاں گئے؟ نجی چینل کی رپورٹ میں حقائق سامنے آگئے۔

نجی چینل کی رپورٹ کے مطابق ورلڈ بینک کے اس منصوبے کے تحت غذائی قلت کی شکار حاملہ خواتین اور ماؤں کو مچھلیاں کھلائی جانی تھیں، اس منصوبے کیلئے سندھ حکومت کو ورلڈ بینک نے 2 ارب روپے کے فنڈز مہیا کیے جس سے سندھ حکومت نے 22 اضلاع میں مچھلیوں کی افزائش کیلئے 1208فارمز یا تالاب بنانے تھے جن سے علاقے کی خواتین کو مچھلیاں مہیا ہونی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق سندھ حکومت نے فنڈز ملنے کے 4 ماہ کے عرصے میں ڈیڑھ ارب روپے خرچ کردیئے ہیں مگر اب تک چند اضلاع میں برائے نام اس منصوبے پر کام ہوا ہے ، محکموں کے افسران نے یہ ڈیڑھ ارب روپے ہڑپ کرلیے ہیں، کوئی بتانے کیلئے تیار نہیں ہے کہ پیسے کہاں خرچ ہوئے اور اب تک کتنی خواتین اس منصوبے سے مستفید ہوئی ہیں۔

نمائندے کے مطابق اس پروجیکٹ کے ڈائریکٹر تالپور صاحب سے متعدد بار رابطہ کرنے اور منصوبے سے متعلق معلومات لینے کی کوشش کی مگر کسی قسم کا جواب موصول نہیں ہوا، کتنی خواتین کی رجسٹریشن ہوئی کتنے تالاب بنائے گئے کسی قسم کی کوئی تفصیلات مہیا نہیں کی جارہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >