جیو نیوز کے سینئر رپورٹر علی عمران سید لاپتہ، اہل خانہ

کراچی سے جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران سید کو لاپتہ ہوئے 15 گھنٹے سے زائد کا وقت گزر چکا ہے لیکن ابھی تک ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ وہ گھر سے آدھے گھنٹے کے لیے باہر جانے کا کہہ کر نکلے تھے۔ اہل خانہ کے مطابق وہ قریبی بیکری تک گئے مگر واپس نہیں لوٹے۔

علی عمران سید کے بھائی طالب رضوی نے بتایا کہ علی عمران گزشتہ روز شام 7 سے 8 کے درمیان گھر سے نکلے کافی دیر کے بعد بھی واپس نہیں آئے تو تلاش شروع کی انہوں نے بتایا کہ علی عمران موبائل فون بھی گھر پر ہی چھوڑ گئے تھے۔

علی عمران سید کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ گمشدگی سے کراچی پولیس چیف اور ڈی آئی جی ایسٹ کو آگاہ کردیا گیا ہے جب کہ ان کی گمشدگی سے متعلق سچل تھانے میں درخواست بھی جمع کرا دی ہے۔

ادھر ایس ایچ او سچل تھانہ ہارون کورائی نے تصدیق کی کہ واقعہ کی درخواست موصول ہوگئی ہے، جائے وقوعہ کا معائنہ کر کے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش جائے گی۔

علی عمران سید کے لاپتہ ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر طوفان مچ گیا اور علی عمران سید کو بازیاب کرانے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا اور اب یہ مطالبہ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ کر رہا ہے جس کے لیے 14ہزار سے زائد لوگ ٹوئٹس کر چکے ہیں۔

اس حوالے سے معروف صحافی و تجزیہ کار نجم سیٹھی نے لکھا کہ جیو نیوز کے صحافی علی عمران سید لاپتہ ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ہی کیپٹن(ر) صفدر کی گرفتاری کی سی سی ٹی وی فوٹیج پبلک کی تھی تاکہ پتہ چل سکے کہ کس نے گرفتاری کی۔

انہوں نے سوال پوچھا کہ کیا اس پر کوئی انکوائری ہو گی؟

 

اینکر پرسن ارشد شریف نے لکھا کہ علی عمران سید نے آواری ہوٹل کی وہ سی سی ٹی وی چلائی تھی جس میں کیپٹن صفدر کو گرفتار کرنے والوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ انہیں اپنی صحافتی ذمہ داری نبھانے کے جرم میں غائب کر دیا گیا ہے۔

 

ایک صحافی نے لکھا کہ صحافت کرنا کوئی جرم نہیں بلکہ رپورٹر اور لکھنے والوں کو غائب کر دینا جرم ہے۔

 

فیضان لاکھانی نے کہا کہ اہل خانہ کے مطابق علی عمران سید بیکری تک گئے تھے اور رات گئے تک وہ واپس نہیں آئے۔

 

عائشہ بخش نے لکھا کہ دعا ہے کہ علی عمران سید بحفاظت واپس آ جائیں۔

 

ایک صارف نے علی عمران سید کی اہلیہ کی ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ آدھے گھنٹے کے لیے باہر جانے کا کہہ کر گھر سے بیکری تک نکلے تھے مگر واپس نہیں آئے۔

  • Another drama
    Yeh saley indian affliated channel key reporter hi kiyun missing hotey hein
    Shakal sey tau chappar ganju lag raha hey aur aisi konsi evidence la raha tha jo cctv cameras ney nahin dekhayee

  • Govt and institutions do not believe in the kidnapping, it’s an old mafia tactic to seek attention and sympathy. Tweet from Shahbaz Gill said this:

    ہماری حکومت آزادی اظہارے رائے پر یقین رکھتی ہے۔سندھ حکومت کو فوری طور پر عوام کو آگاہ کرنا چاہئیے اور اگر یہ اغواہ ہوئے ہیں تو فوری طور پر بازیاب کروائیں۔ اور اگر یہ بات آئی جی کےاغواہ کی طرح جھوٹ ہے تو وہ بھی عوام کو بتائیں۔ ہم صحافتی آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔یہ قابل قبول نہیں


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >