جن کا علاج بھی لندن میں ہو انہیں پسماندہ علاقے کا کیا احساس، وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے آج اپنے حلقے اور آبائی شہر میانوالی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے مختلف پراجیکٹس کا افتتاح کیا، وزیراعظم نے میانوالی نمل یونیورسٹی کے کیمپس کا بھی افتتاح کیا، اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور دیگر اعلیٰ قیادت بھی ان کے ہمراہ تھی۔

وزیراعظم عمران خان نمل نالج سٹی پراجیکٹ کی افتتاحی تقریب سے میانوالی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہاں گرلز اسکول نہیں تھے، نہ اسپتالوں میں نرسز اور لیڈی ڈاکٹر تھیں، اب ہم اسپتالوں میں نرسز اور لیڈی ڈاکٹر تعینات کرنے کی پلاننگ کر رہے ہیں اور میں نے حکم دیا ہے کہ یہاں کے اسپتال خود اخباروں میں اشتہار دیکر ڈاکٹر بھرتی کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ قومیں کپاس اور کپڑا بیچنے سے امیر نہیں ہوتیں بلکہ تعلیم پر خرچ کرنے سے امیر ہوتی ہیں، ہم میانوالی میں ایک عالمی معیار کی نمل یونیورسٹی بنا رہے ہیں جو ایک نالج سٹی ہو گا، یہاں سے پورے پاکستان کے لیے زرعی شعبے پر ریسرچ ہو گی۔

مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ایک شہر پر پیسہ لگانے سے قومیں ترقی نہیں کرتیں، جن کے میڈیکل چیک اپ اور بچے لندن میں ہوں انہیں پسیماندہ علاقوں کا کیسے احساس ہوگا۔ مدینہ کی ریاست کا اصول ہے کہ قانون کے سامنے سب برابر ہیں اور قانون کی بالا دستی کا مطلب ہے کہ ہم نے کمزور طبقے کو اوپر اٹھانا ہے تاکہ کوئی بھی طاقتور اس پر ظلم نہ کر سکے۔

وزیراعظم نے آئی جی پنجاب انعام غنی اور ایس پی میانوالی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے خاص نظر رکھنی ہے کہ تھانوں میں کسی غریب کو کوئی ظلم نہ ہو۔ جو ظلم کرے اسے سزا ملے، چاہے وہ طاقتور ہو یا کمزور۔

وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہمارا سب سے پہلا فوکس ہے کہ میانوالی، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور جیسے پسماندہ علاقوں کو اوپر لیکر آئیں تاکہ یہاں تعلیم بھی ہو، اسپتال بھی ہوں اور پولیس عوام کی مدد کرے۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب کے دوران یہ بھی بتا دیا کہ انہوں نے عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ کیوں لگا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک پسماندہ علاقے سے ہیں اور پسماندہ علاقوں کے مسائل سے بخوبی واقف ہیں اس لیے ان کو پنجاب کا صوبہ دیا تا کہ وہ ان علاقوں کے مسائل کو قابو کر کے صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔

  • اچھی بات میانوالی کی ترقی سے ہم
    خوش ہیں لیکن
    میانوالی کے ساتھ بارڈر پر ایک علاقہ کر بھی ہے جہاں ایجوکیشن بھی زیادہ ہے اور تیل گیس یورینیم جپسم نمک کے بڑے ذخائر ہے جس سے روزانہ کروڑوں روپے کا مال نکالا جاتا ہے اور یورینیم کی وجہ سے ہر روز بہت سے لوگ کینسر کی بیماری میں مبتلا ہو رہے ہیں اور بد نصیبی یہ ہے کہ کرک میں کوئی کینسر ہسپتال بھی نہیں ایک کینسر ہسپتال کی منظوری ہوئی تھی وہ بھی دورانی صاحب کی مہربانی سے بنوں منتقل کر دیا گیا اور کرک کے حصہ میں آنے والی اربوں روپے کی رقم کا کوئی اتا پتا نہیں خدارا اس ضلع کی ترقی پر بھی توجہ دی جائے یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ کے کرک جغرافیائی لحاظ سے ایک علاقہ ہے جہاں سے کراچی ٹو پشاور شارٹ کٹ روٹ ہے جس کی وجہ سے ہمیں ہائی وے نصیب ہوئی ہے ورنہ یہ حکمران تو ہمیں ایک گھونٹ پانی دینے کو بھی تیار نہیں خدارا اس بارے میں سوچئے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >