پاکستان کی پہلی خواجہ سرا وکیل، سڑکوں پر بھیک مانگ کر اپنی ڈگری مکمل کی

مشکل سے مشکل حالات میں بھی اگر انسان کچھ کرنے کی ٹھان لے اور پکی لگن کے ساتھ محنت شروع کر دے تو کائنات کا ہر ذرہ اس چیز کو آپ سے ملانے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ محنت کرنے والے کو کامیابی ملنا لازمی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی کسی کی محنت نہیں رکھتا، جو محنت کرے اسے اس کا پھل لازمی ملتا ہے۔

کچھ اسی طرح پاکستان کی ہونہار طالبہ خواجہ سرا نشا راؤ کے ساتھ بھی ہوا، جنہوں نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کیلئے کسی بھی مشکل کو آڑے نہیں آنے دیا اور اپنی ہمت اور بے پناہ محنت سے وکالت کی تعلیم مکمل کی اور اب وہ پاکستان کی پہلی خواجہ سرا وکیل ہیں۔

وکیل نشاء راؤ نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں شرکت کی اور بتایا کہ وہ کن مشکلات سے گزر کر یہاں تک پہنچی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی کمیونٹی کے حقوق کے لیے کچھ کرنا چاہتی تھیں اس لیے انہوں نے اس پیشے کا انتخاب کیا۔

نشا راؤ نے اپنی کہانی سُناتے ہوئے کہا کہ میں دن میں کلفٹن کی سڑکوں پر بھیک مانگتی تھی اور رات میں وکالت کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے کلاسز لینے جایا کرتی تھیں۔ میں 10 سال کراچی کی سڑکوں اور سگنلز پر بھیک مانگنے کے بعد آج اس مقام پر پہنچی ہوں۔

وکالت کی سیڑھی کا سفر کامیابی سے طے کرنے والی 28 سالہ نیشا اب تک خواجہ سراؤں اور دیگر افراد کے50 سے زائد مقدمات نمٹا چکی ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >