سینیٹ:پیمرا کو با اختیار بنانے کا بل اپوزیشن کی مخالفت کے باعث منظور نہ ہو سکا

سینیٹ:پیمرا کو با اختیار بنانے کا بل اپوزیشن کی مخالفت کے باعث منظور نہ ہو سکا

پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (ترمیمی) بل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بل پیش کرنے والے سینیٹر فیصل جاوید کی نیت پر شک نہیں کیونکہ مجوزہ قانون ٹی وی میں کام کرنے والے صحافیوں اور ان کی ملازمت کے تحفظ سے متعلق ہے۔

مگر رضا ربانی نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پیمرا کا سچ کو دبانے کا ریکارڈ موجود ہے خدشہ ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال ہو گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں سینسر شپ اور پریس کا گلا دبایا جارہا ہے۔ ملک میں آزادی صحافت کو غصب کیا جارہا ہے، جہاں صحافیوں کو برطرف اور اغوا کیا جارہا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پرویز رشید نے بھی اس بل کی مخالفت کی۔

حالانکہ سینیٹر فیصل جاوید نے واضح کیا کہ بل آجر اور ٹی وی کے صحافیوں کے درمیان قابل عمل معاہدوں پر دستخط ان کی تجدید اور وسعت کو یقینی بنائے گا۔ بل صحافیوں کی اجرت اور ملازمتوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گا اور پیمرا کو ٹی وی چینل لائسنس جاری کرنے والی اتھارٹی کی حیثیت سے نگرانی کا کردار ادا کرنا چاہیے۔

وزیر اطلاعات شبلی فراز نے اپوزیشن پر کوئٹہ جلسے میں آئین کے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگایا جس پر اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔

  • رضا ربانی جیسی ڈرامہ کوئین بھی کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے فوجی عدالتوں کے حق میں ووٹ دیتے وقت آنسو ٹپک رہے تھے لیکن اتنی اخلاقی جرات نہیں تھی کہ اپنے سیاسی آقاؤں کی حکم عدولی کر سکیں۔ یہ ہیں جمہوریت کے طبلچی


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >