بحریہ ٹاؤن کے ڈائریکٹر کی 9 ارب روپے کی پلی بارگین منظور

بحریہ ٹاؤن کے ڈائریکٹر زین ملک کی نیب کے ساتھ 9 ارب روپے سے زائد کی پلی بارگین کی درخواست منظور کرلی گئی ہے،راولپنڈی دفتر کے ڈائریکٹر جنزل عرفان نعیم منگی نے اس حوالے سے تفصیلات بتادیں، کہا احتساب عدالت نے ملزم زین ملک کی نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر کردہ 6 ریفرنسز میں 9 ارب 5 کروڑ کی پلی بارگین کی درخواست منظور کرلی۔

ڈی جی عرفان نعیم منگی کا کہنا تھا کہ کیس بعنوان ریاست بمقابلہ حسین لوائی اور دیگر میں 2 ارب 10 کروڑ روپے کی رقم وصول کی گئی، خواجہ عبدالغنی مجید کے خلاف کیس میں ایک ارب 56 کروڑ 30 لاکھ روپے، سابق ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی منظور قادر کاکا کے خلاف کیس میں 2 ارب روپے، مشتاق احمد اور زین ملک کے خلاف کیس میں ڈیل کے تحت31 کروڑ روپے، زرداری گروپ اور اوپل-225 کے خلاف کیس میں میں ایک ارب 70 کروڑ روپے جبکہ زین ملک اور مشتاق احمد کے خلاف کیس میں 4 ارب 95 کروڑ روپے وصول کیے گئے۔

اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ احتساب عدالت نے ملزم میاں وسیم عرف لکی علی کی بھی ایک ارب 95 کروڑ روپے کی پلی بارگین کی درخواست منظور کی، مضاربہ کیس میں عدالت نے ملزم مطیع الرحمٰن کو 12 سال قید اور 17 کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنائی جبکہ ملزم کو اشتہاری قرار دیا گیا، ایک الگ مضاربہ اسکینڈل میں عدالت نے غلام رسول ایوبی کو 10 سال قید اور 3 ارب 70 کروڑ روپے جرمانے کی سزا دی، نہ صرف غلام رسول بلکہ ان کے ساتھیوں حسین احمد اور محمد خالد کے خلاف بھی تمام الزامات ثابت ہوگئے۔

علاوہ ازیں ایک اور مضاربہ کیس میں عدالت نے فیاضی گروپ انڈسٹریز کے سی ای او مفتی احسان الحق کو 10 سال قید اور 9 ارب روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر کردہ ریفرنس میں 9 شریک ملزمان پر ایک ارب روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

عرفان نعیم منگی کا کہنا تھا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے سابق ڈی جی منظور کاکا نے ہاکستان اسٹیل کی 506 ایکڑ اراضی کو غیر قانونی طریقے سے الاٹ کیا تھا جس میں سے 300 ایکڑ اراضی کی دستاویزات حکومت سندھ کو واپس کردی گئیں۔

نیب راولپنڈی کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے اجلاس میں چیئرمین جاوید اقبال نے ڈی جی عرفان نعیم منگی کی زیرنگرانی مقامی دفتر کے کام کی تعریف کی، اجلاس میں نیب کے ڈپٹی چیئرمین حسین اصغر، نیب پراسیکیوٹر جنرل سید اصغر حیدر، ڈی جی (آپریشنز) ظاہر شاہ اور دیگر سینئر افسران شریک تھے۔

  • So this means, in Pakistan you can steal 5 or 10 billion ruppees, then return half of it under plea bargain with a promise that you will not be penalized and go home free with 1/2 of the money. That is great. You can earn 5 billion in a year and this amount is good for you, your next generation even if you do not do anything else in your entire life. What a great country. This is what is called freedom……Very painful!!

  • Plea bargain should give them lesser sentences not let them go without serving a sentence. This is complete bollocks, a law created by rich law makers, for rich corrupt people, enforced by mostly corrupt NAB and validated by a corrupt judiciary.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >