پاکستان پر ابھی نندن کی رہائی سے متعلق کوئی دباؤ نہیں تھا،ترجمان دفتر خارجہ

دفتر خارجہ کے ترجمان شاہد حفیظ کا ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ بھارت کے جنگی عزائم اور اقدامات سے خطے کے امن کو شدید خطرات ہیں، پوری دنیا میں 27 اکتوبر یوم سیاہ کے طور پر بھرپور طریقے سے منایا گیا ہے اور یہ دن مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی افواج کے داخل ہونے کی یاد دلاتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ نے مقبوضہ جموں کشمیر سے بھارتی فوجی محاصرے کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ 27 اکتوبر کو یوم سیاہ کے دن بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ بلا کر احتجاج بھی ریکارڈ کروایا گیا ہے، وزیر اعظم نے بھی دنیا پر بھارتی اقدامات روکنے سے متعلق زور دیا۔

زاہد حفیظ کا ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے اسلامو فوبیا سے متعلق بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کا مسئلہ عالمی سطح پر اٹھایا گیا ہے، دنیا میں بڑھتے ہوئے نفرت انگیز مواد اور انتہا پسندی سے آڑے ہاتھوں نمٹنے کی ضرورت ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اسلامو فوبیا اور گستاخانہ خاکوں کے خلاف پاکستان نے قرار دادیں منظور کی ہیں جبکہ پاکستان کی جانب سے 15 مارچ کو اسلامو فوبیا کے خلاف دن منانے کی درخواست بھی کی گئی ہے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے ترک ہم منصب سے رابطہ کرکے کشمیریوں کی حمایت اور فیٹف کے اجلاس میں پاکستان کی حمایت کرنے پر ترکی کا شکریہ ادا کیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ کا لیگی رہنما ایاز صادق کی جانب سے دیئے گئے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ حکومت پاکستان پر ابھی نندن کی رہائی سے متعلق کوئی دباؤ نہیں تھا بلکہ حکومت نے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو امن کے پیغام اور جذبہ خیر سگالی کے تحت رہا کیا تھا، جبکہ افواج پاکستان اس وقت بھی تمام خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار کھڑی تھیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت ہمیشہ سے پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے جس کا بین الاقوامی سطح پر بھی اعتراف کیا جا رہا ہے، تاہم پشاور میں مدرسے میں خود کش حملے کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ کے ملوث ہونے کو قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

  • اب تم جو بھی کہتے رہو زاہد حفیظ صاحب …ایاز صادق نے تم سبکی بی پر موم بتی جلا دی ہے…ٹپ ..ٹپ ..ٹپ موم پگھل کر تمہیں جلاتی رہے گی..جب تک تم یہ موم بتی بجھا نہیں دیتے اب اس میں کیا


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >