آرمی چیف سے کوئی ریلیف نہیں مانگا، محمد زبیر

آرمی چیف سے ملاقات میں مریم نواز کے ای سی ایل اور پاسپورٹ کے بارے میں تبادلہ خیال ، مال روڈ لاہور پر احتجاج کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر کے انکشافات کے بارے میں محمد زبیر سے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کی گئی۔

محمد زبیر نے کہا کہ صرف میرے موقف کی بات کرتے ہیں جبکہ آئی ایس پی آر چیف نے تئیس ستمبرکووضاحت کی اور بتایا قوم کے سامنے اس حوالے سے بتایا، آرمی چیف سے بہت سیاست دان ملتے رہے ہیں اس بات کو سب مانیں گے، صرف گزشتہ سال سے نہیں بلکہ ہمشیہ سے ملتے چلے آرہے ہیں، میں سیاست دان ہوں میں نے حلف نہیں اٹھایا ہوا کہ میں کس سے ملوں کس سے نہیں ملوں جنہوں نے حلف اٹھایا ہوا ہے وہ احتیاط کریں،

جب آئی ایس پی چیف آئے تھے اور انہوں نے ملاقات کے حوالے سے بتایا تو انہوں نے آدھا سچ اور آدھا جھوٹ کہا تھا، انہوں نے یہ تو بتایا مریم نواز اور نواز شریف کے حوالے سے بات کی لیکن پوری بات نہیں بتائی، میں چیلنج کرتا ہوں وہ بتا دیں کہ اگر میں نے این آر او یا کسی بھی ریلیف کی بات کی ہو یا یہ بھی کہا ہو کہ آپ مجھے ڈراپ کروادیں، یا پوچھ لیں کہ زبیر صاحب نے کچھ مانگا ہو، دوسرا انہوں نے اس چیز کے خلاف بات کی جو میرے اوران کے درمیان تھی اور کہا گیاتھا آف دی ریکارڈ رہے گی۔

میزبان ارشد شریف نے محمد زبیر سے سوال کیا کہ کیا آپ نے آرمی چیف سے پوچھاتھا کہ مریم بی بی کا کیا مسئلہ ہے آپ اسے سیاست کرنے دیں؟ جس پر محمد زبیر نے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ مریم کا نام ای سی ایل میں ہے آپ ان کا پاسپورٹ جلا کر یا پھاڑ کرپھینک دیں نہ انہوں نے جانا ہے لندن نہ ہی ہم آپ کے رحم وکرم پر بیٹھیں گے۔۔

میزبان نے مال روڈ کے ذکر کے بارے میں پوچھا تو محمد زبیر نے بتایا کہ انہوں نے کہا تھا کہ اپوزیشن کو پورا حق ہے کہ وہ قانون اورآئین کے مطابق کھل کرسیاست کریں،اس میں مریم نواز، میاں نواز شریف بھی شامل ہیں وہ کھل کر سیاست کرینگے، جو بھی آئین کے تحت ہے۔

محمد زبیر نے کہا کہ اگر ملاقات کے حوالے سے زیادہ بات کی گئی تو آرمی چیف کو مسئلہ ہوگا میں تو سیاست دان ہوں، سات گھنٹے کی ملاقات کے بارے میں بات کی گئی تو

آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے دو ملاقاتیں ہوئی ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >