حکومت کا تختہ الٹنےکیلئےاپوزیشن کا فوج پر دباؤ ڈالنا آگ سے کھیلنے جیسا ہے،کامران خان

حکومت کا تختہ الٹنےکیلئےاپوزیشن کا فوج پر دباؤ ڈالنا آگ سے کھیلنے جیسا ہے،کامران خان

حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے اپوزیشن کا فوج مخالف بیانیے کی مدد سے دباؤ ڈالنا آگ سے کھیلنے جیسا ہے، کامران خان

سینئر صحافی کامران خان نے اپنے ایک وی لاگ میں کہا کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کی جانب سے حکومت کو گرانے کے لیے فوج مخالف بیانیے کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو یہ وجود میں آنے والی جماعت ایک بار پھر جل کر خاک ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ بیانیہ ایسی تیر اندازی ہے جو اپوزیشن والے  ذاتی وجوہات کی بنا کر قومی اداروں پر کر رہے ہیں جن میں افواج پاکستان اور آئی ایس آئی کی سینئر لیڈرشپ شامل ہے۔

کامران خان نے کہا کہ ان الزامات میں نواز شریف کا نام لے لے کر کی گئی الزام تراشیاں ہوں یا کیپٹن(ر) صفدر کی گرفتاری پر سامنے آنے والا یکطرفہ بیانیہ، بلاول بھٹو کی فوج مخالف دشنام طرازیاں ہوں یا ایاز صادق کا بھارت کے خلاف ہماری تاریخی فوجی فتح کو ملیا میٹ کر دینے کا عمل، انہوں نے کہا کہ یہ صرف اور صرف یکطرفہ بیانیہ چل رہا ہے۔

کامران خان نے دعویٰ کیا کہ بارڈر پر لڑنے والے اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سپاہی سے لیکر فوجی جرنیل سب بے چین ہیں۔ پی ڈی ایم لیڈر فوج کے خلاف بیانیہ دینے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں انہیں تضادات کا انبار نظر آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ آرمی چیف اپوزیشن جماعتوں کے لیے کچھ عرصہ قبل تک اتنے پسندیدہ تھے کہ انہوں نے غیر مشروط حمایت کے ذریعے جنرل قمر جاوید باجوہ کو تین سالہ مدت ملازمت میں توسیع دلائی۔

کامران خان نے کہا کہ وجہ یہ ہے کہ یہی سیاستدان چاہتے ہیں کہ فوج اور آئی ایس آئی موجودہ حکومت کے خلاف اپوزیشن کے ساتھ مل کر یا تو حکومت کا تختہ الٹنے میں مدد کرے اور کچھ نہیں تو کم از کم نیب کے کیسز کو ہی کچھ ٹھنڈا کرا دیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی لیڈر شپ چاہتی ہے کہ جنرل باجوہ فراموش کر دیں کہ 2018 کے الیکشن کو اسی اپوزیشن نے تسلیم کیا اور پارلیمان سے وفاداری کا حلف اٹھایا اور اسی لیڈر شپ کا ساتھ دیں تاکہ وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جائیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >