گستاخانہ خاکوں کیخلاف احتجاج: مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گستاخانہ خاکوں کیخلاف احتجاجی مظاہرے کیا گیا ، مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔پولیس کی جوابی کاروائی

مظاہرین نے فرانسیسی سفارتخانے کی طرف جانے کی کوشش کی تو ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی۔ جس پر مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ شروع کردیا اور نہ صرف پولیس چوکی کے شیشے توڑدئیے بلکہ گرین بیلٹ پر بھی آگ لگادی ۔مظاہرین نے آبپارہ چوک پر کنٹینرز ہٹا کر فرانسیسی سفارتخانے کی جانب جانے کی کوشش کی جس پر پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے آگئے۔

پولیس نے سفارت خانے کی جانب جانے والے راستے سیل کر دئیے جبکہ احتجاجی مظاہرین کنٹینر پر چڑھ گئے۔ ریڈ زون میں پولیس کی مزید بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔

اسلام آباد میں گستاخانہ خاکوں کیخلاف تاجروں اور مذہبی افراد نے مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے فرانس کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین نے فرانسیسی سفارتخانہ کی جانب بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں آگے جانے سے روک دیا۔ اس موقع پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی۔ مشتعل مظاہرین نے جواباً پولیس پر پتھراؤ کرتے ہوئے پولیس چوکی کے شیشے توڑ دیے اور ریڈ زون کے باہر گرین بیلٹ پر گھاس کو آگ لگا دی۔

احتجاجی مظاہرین کو ریڈ زون میں داخل ہونے سے روکنے کےلیے پولیس کے تاجروں اور مذہبی رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے واٹر کینن پہنچادی گئی ہے۔

علاوہ ازیں جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام (ف) اور دیگر مذہبی و سیاسی تنظیموں نے ملک بھر میں فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کےخلاف یوم احتجاج منایا۔ اس سلسلے میں جمعہ کے اجتماعات میں شان رسالت ﷺ کو اجاگر کیا گیا۔

مختلف شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں اور احتجاجی مظاہرے ہوئے جن میں فرانسیسی صدر میکرون کے پتلے نذر آتش کیے گئے۔ مظاہرین نے پاکستانی حکومت سے فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے اور فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کے مطالبات کیے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >