عدالت نے پولیس کو13 سالہ نومسلم آرزو کے شوہراور اہلخانہ کی گرفتاری سے روک دیا

عدالت نے پولیس کو 13 سالہ نو مسلم آرزو فاطمہ کے شوہر اور اہلخانہ کی گرفتاری سے روک دیا۔۔ 13 سالہ آرزو فاطمہ کے شوہر پر الزام ہے کہ اس نے لڑکی کو اغوا کرکے زبردستی مذہب تبدیل کروایا اور شادی کرلی

تفصیلات کے مطابق کراچی کی رہائشی آرزو راجہ کے والدین نے عدالت میں 45 سالہ شخص کی جانب سے آرزوکے اغوا ، جبری مذہب کی تبدیلی اور زبردستی شادی کے خلاف درخواست دائر کی اور اپیل کی کہ ان کی بیٹی کو بازیاب کروایا جائے۔

سندھ ہائی کورٹ نے آرزو راجہ کی کسٹڈی اس کے شوہر علی اظہر ( جس نے مبینہ طور پر آرزو کو اغوا کرکے اس سے شادی کی ) کو سونپ دی اور پولیس کو اسے گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا۔

پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے اخبار نیوز ڈے کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے ریمارکس دیئے ہیں کہ آرزو راجہ نے بغیر کیس کے دباؤ اور زبردستی کے اپنی مرضی سے اسلام قبول کرکے 45 سالہ علی اظہر سے شادی کی ہے، اسی لیے عدالت اسے علی اظہر کےساتھ رہنے کی اجازت دیتی ہے۔

عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ ایف آئی آر میں نامزد علی اظہر اور دوسرے شخص کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی عمل میں نہ لائی جائے اور شادی شدہ جوڑے کے تحفظ کو یقنیی بنایا جائے۔

انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی غزالہ شفیق نے کہا کہ عدالت کی جانب سے آرزو راجہ کی 13 برس عمر کو نظر انداز کرنے پر پوری مسیحی برادری اور آرزو کے گھر والوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے، نادرا کے ریکارڈ کے مطابق آرزو 31 جولائی 2007 کو پیدا ہوئی اور اس کی عمر 13 برس ہے، 16 برس سے کم عمر کی بچی کے ساتھ شادی اور جنسی تعلق قائم کرنا جرم ہے جس کیلئےسزائے موت یا کم از کم 10 برس قید کی سزا ہے۔

دوسری جانب سندھ حکومت نے کم عمری میں شادی کے آرزو راجہ کیس کے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ سندھ حکومت کم عمری میں شادی کے آرزو راجہ کیس کے فیصلے پر نظرثانی کیلئے عدالتوں سے رجوع کرے گی۔

انہوں نے مزید لکھا کہ آرزو راجہ کیس میں اگر معزز عدالت کو شبہات ہیں تو انہیں دور کیا جائے گا۔ سندھ حکومت کے اپنے دائرہ کار میں انصاف کی فراہمی کے لئے ہر ممکن اقدام اٹھائے گی۔ہم نے کم عمری میں شادی کے حوالے سے جو قانون سازی کی ہے، اس پر عملدرآمد کیلئے ہر ممکن جدوجہد کریں گے۔

واضح رہے کہ یہ غیر مسلم عورتوں کو جبری طور پر مسلمان کرکے شادی کرنے کا پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے قبل2019 میں 14 سالہ ہما یونس کو بھی اغوا کرکے جبری طور پر مسلمان کیا گیا تھا، فیصل آباد میں 14 سالہ مائرہ شہباز کو بھی اسی طرح اغوا کیا گیا، جبری طور پر مسلمان کرکے رشتہ ازدواج میں باندھ دیا گیا تھا۔

  • یہ وہی جج لگتا ہے جس نے اپنی ہی عدالت کے اندر ایک ایسی ہی سائل کو ریپ کردیا تھا اور اب سارے ججز کا مشترکہ بہنوی بن کر دوبارہ جاب کررہا ہے

    • لیکن جج صاحب کا کہنا ہے کہ انہوں نے سائل کو نہیں بلکہ سائل نے انہیں ریپ کیا تھا ؟…جسکا عینی شاہد عدالت کا
      اردلی ہے…..اب اس میں کیا

  • THIS GIRL AND HER FAMILY 1ST SHOULD BE SEND TO COUNTRY OF CHOICE AND THEIR THE GIRL REMARKS SHOULD BE RECORDED WEATHER SHE BECAME MUSLIM WITH HER OWN WILL OR NOT. AND IF SHE SAYS NOT THE MAN SHOULD BE HANGED


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >