جلسوں میں عوام غیر محفوظ لیکن بختاور کی منگنی میں جانے کیلئے کرونا ٹیسٹ لازمی، حکومتی شخصیات کی تنقید

معاون خصوصی شہباز گل کا کہنا ہے کہ بختاور کی منگنی میں شرکت کیلیے تو کورونا ٹیسٹ کی رپورٹ بھیجنا لازم ہے،

ورنہ آپ کو بلاول ہاوس آنے نہیں دیاجائیگا، یہ ہے وہ فرعونیت، یہ ہے وہ ظالمانہ سوچ جو عوام کو کم تر سمجھتے ہیں، ٹویٹ میں لکھا کہ خلقِ خدا کو جب جلسوں میں بلاتے ہو تو کیوں اُن کی جانوں کا خیال نہیں رکھتے، اپنی جانیں تو بہت عزیز ہیں تمہیں؟

 شہزاد اکبر نے بھی پی پی پر تنقید کی اور کہا کہ دوغلے پن اور اقتدار سے ہوس کی اس سے بڑی نظیر کیا ہو گی، صرف یہی نہیں انکی نجی محفل میں جانے کے لیے کورونا ٹیسٹ لازمی لیکن عوام کو کھلے عام کورونا بانٹ رہے ہیں، واہ ری سیاست!

وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا کہ ووٹ کو عزت دو! لیکن ووٹر کو کورونا سے مرنے دو یہ ہے ہمارا دوہرا معیار، کورونا سے ملک کی بنیادیں ہل جائیں انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ان کی اولاد اور خونی رشتے دار ملک سے باہر ہیں اور غریب کا بچہ قربانی کے لیے انہیں درکار ہے.

بختاور بھٹو کی منگنی سے متعلق پیپلز پارٹی کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ بختاور بھٹو کی منگنی 27 نومبر کو محمود چوہدری سے ہو گی، محمود چوہدری یونس چوہدری اور ثریا چوہدری کے پانچ بچوں میں سب سے چھوٹے بیٹے ہیں۔

بختاور بھٹو کی منگنی کا کارڈ بھی منظر عام پر آگیا ہے، جس کے مطابق اُن کی منگنی کی تقریب دن 4 بجے اُن کے گھر بلاول ہاؤس پر منعقد کی جائے گی،اس کے علاوہ دعوت نامے پر مہمانوں کو کورونا وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >