کراچی: ڈاؤ یونیورسٹی میں کرونا کی دوا کی تیاری آخری مراحل میں داخل

کراچی: بڑی پیشرفت، ڈاؤ یونیورسٹی میں کرونا وائرس کے علاج کی دوا کی تیاری آخری مرحلے میں داخل ہو گئی

پاکستان کی کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں ایک اور اہم کامیابی سامنے آئی ہے، کراچی کی ڈاؤ یونیورسٹی میں کرونا وائرس کے علاج کی دوا کی تیاری آخری مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی انتظامیہ نے اس حوالے سے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرونا وائرس میں مبتلا مریض کی جان بچانے والی دوا "سی آئی وی آئی جی” کے کلینکل ٹرائل کامیابی سے جاری ہیں، جس کے بہت مثبت نتائج نکل کر سامنے آ رہے ہیں۔

ڈاؤ یونیورسٹی کی انتظامیہ کا مزید کہنا تھا کہ دوا کی طبی آزمائش کے دوران آئی سی یو میں داخل مریضوں کی صحت میں ساٹھ فیصد بہتری جب کہ کرونا وائرس کی شدید بیمار مریضوں پر اس دوا کا اثر سو فیصد مثبت رہا ہے۔

وائس چانسلر ڈاؤ یونیورسٹی پروفیسر محمد سعید قریشی کی ہدایت پر ڈاؤیونیورسٹی میں کوروناکے علاج  کے لیے دوا کی تیاری پرکام کا آغاز  اپریل کے دوسرے ہفتے میں کیا گیا تھا، دوا کی تیاری اور کلینکل ٹرائل کے لئے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) کا بھی پورا تعاون حاصل رہا ہے۔

دوسری جانب ماہرین نے اس انجکشن کی تیاری کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ انجیکشن کورونا سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کے پلازما سے اینٹی باڈیز کو کشید کر کے تیار کیا جاتا ہے، اینٹی باڈیز کو کشید کرنے کا یہ طریقہ پلازما تھراپی سے بالکل مختلف ہے اور یہ ایک پیچیدہ عمل ہے۔

  • مجھے اس سے کوئی غرض نہی کہ یہ کامیاب ہوتے ہیں یا نہی۔ مجھے تو بس اس بات پر خوشی ہے کہ کم از کم پاکستان میں بھی کچھ ریسرچ ہوتی ہے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >