کوروناکے باعث کراچی کے ہسپتالوں میں جگہ کم مگر پی پی جلسے کرنے میں مصروف

بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کے باعث کراچی کے ہسپتالوں میں جگہ کم پڑنے لگی مگر پیپلزپارٹی دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ جلسے کرنے میں مصروف۔

کورونا وائرس کی ممکنہ دوسری لہر جس کے باعث وفاقی حکومت نے آج تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا بھی اعلان کر دیا ہے جس کے تحت 25 نومبر سے 10 جنوری تک کے لیے تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

کورونا ہی کے پیش نظر کراچی کی صورتحال یہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کے لیے جگہ کم پڑنا شروع ہو گئی ہے جس کے بعد اب مجبوری کی حالت میں شہری نجی ہسپتالوں میں علاج کرانے پر مجبور ہیں جہاں مریضوں سے لاکھوں روپے بٹورے جا رہے ہیں۔

کورونا کی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ خراب ہو رہی ہے جبکہ دوسری جانب پیپلزپارٹی دیگر اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کے ساتھ مل کر جلسے کرنے میں مصروف ہے جو کہ بالکل کورونا پھیلانے کا بڑا ذریعہ ہیں۔ ابھی گزشتہ روز کے پشاور جلسے کے بعد کورونا کے مریضوں کی ایک بڑی تعداد سامنے آنے کا امکان ہے۔

شہر قائد میں اسپتالوں کی صورتحال یہ ہے کہ انڈس اسپتال میں 16 بیڈزپرمشتمل وارڈ میں تمام بیڈزمریضوں سے بھرگئے ہیں۔ جناح اسپتال میں کورونا مریضوں کے لئے 90 بیڈز مختص ہیں، جناح میں 24 ایچ ڈی یوبیڈز اور12 وینٹلیٹرزبھی موجود ہیں، سول اسپتال میں 141 بیڈزبشمول ایچ ڈی یو، آئی سی یو مختص ہیں جن میں سے 88 پرمریض زیرعلاج ہیں۔ سول میں 7 وینٹی لیٹرز پرمریض زیرعلاج ہیں جبکہ ایک خالی ہے۔

لیاری جنرل اسپتال میں 60 بیڈز وارڈ بشمول آئی سی یو اورایچ ڈی یومختص اورلیاری جنرل اسپتال میں 10 وینٹیلیٹرز بھی موجود ہیں۔ ڈاؤ اسپتال میں بھی 30 بیڈز کا وارڈ فل ہوگیا جب کہ نیپا اسپتال کے 66 بیڈزمکمل بھرگئے۔

 ایکسپوسینٹرمیں قائم فیلڈ آئسولیشن سینٹرمیں 150 بیڈز ایچ ڈی یومیں سے 70 پر مریض زیرعلاج ہیں۔ سروسزاسپتال میں 40 میں سے 30 بیڈزمریضوں کے لئے خالی ہے، وینٹیلیٹرزپرکوئی مریض نہیں ہے۔

عباسی شہید اسپتال میں 100 بیڈز کا تیاروارڈ تاحال غیرفعال ہے۔ وارڈ میں آئی سی یو، ایچ ڈی یو اوروینٹیلیٹرزکودھول چاٹنے لگی، صرف آکسیجن کمپریسرنہ ہونے کے سبب 4 ماہ سے وارڈ غیرفعال ہے۔

دوسری جانب ضیاالدین کلفٹن میں 7 جبکہ نارتھ ناظم آباد میں 12 بیڈز بھی بھر چکے ہیں، آغاخان اسپتال کے 30 بیڈز، لیاقت نیشنل اسپتال میں 22 بیڈز کرونا مریضوں کے لیے مختص ہیں۔

  • کراچی میں عدالت نوٹس لے اور بلاول ہاؤس کو ہسپتال کا درجہ دے کر کرونا وائرس کے مریضوں کا جلد از جلد علاج شروع کرایا جائے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >