خیبرپختونخوا 2021 تک تمام شہریوں کو صحت کی سہولیات دینےو الا پہلا صوبہ بن جائے گا

پی ٹی آئی حکومت کا احسن اقدام۔۔خیبرپختونخوا 31 جنوری 2021 تک ملک کا پہلا صوبہ بن جائے گا جس کے تمام شہریوں کے لئے مفت صحت کی سہولیات میسر ہوں گی،ملک بھر کے 500سرکاری اور نجی اسپتالوں میں مفت علاج کروا سکیں گے،خیبر پختونخوا کے تین کروڑ80اکھ سے سے زیادہ افراد مفت صحت کی دیکھ بھال کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

ہیلتھ کارڈ کی انفرادیت یہ ہوگی کہ خیبر پختونخوا کا سی این آئی سی رکھنے والا شخص ملک کے کسی بھی شہر میں مفت علاج کرا سکے گا،مجموعی طور پر65لاکھ 90ہزار خاندان ہر سال 10 لاکھ روپے کی صحت کوریج حاصل کریں گے۔

ابتدائی مرحلے میں او پی ڈی ، جگر اور ہڈیوں کے میرو ٹرانسپلانٹ کو پیکج کا حصہ نہیں بنایا گیا تاہم وزیر اعلیٰ کی خصوصی ہدایت پر جگر اور بون میرو ٹرانسپلاٹ کے مہنگے علاج کو بھی بہت جلد پیکج کا حصہ بنایا جارہا ہےجس کے لئے الشفاء ہسپتال سے معاہدہ کیا جائے گا ۔

تفصیلات کے مطابق مفت طبی خدمات کی فراہمی پر صرف 18 ارب روپے لاگت آئے گی۔ اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کومسابقتی بولی کے نتیجے میں منتخب کیا گیا، جس کو ہر خاندان کےلئے مفت طبی سہولت پر 2849 روپے سالانہ ادا کئے جائیں گے،دوسری بولی دینے والی مختلف انشورنس کمپنیوں کے کنسورشیم نے فی خاندان 3390 کا ریٹ دیا تھا جسکو زیادہ ہونے کی وجہ سے مسترد کردیا گیا۔

وزیراعلیٰ محمود خان نے صحت انصاف ہیلتھ کارڈز کو اپنی زندگی کا خواب قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اسکیم واقعتاغریبوں کی اسکیم ہے جو تحریک انصاف کا ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے جو نہ صرف لوگوں کو مفت اور معیاری صحت کی سہولیات مہیا کرے گابلکہ صوبے میں غربت کو کم کرکے عام لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں بھی مدگار ثابت ہوگا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >