اسمارٹ فون استعمال کرنے والا ہر شخص ہیکرز کے نشانے پر،شکایات میں100فیصد اضافہ

اسمارٹ فون استعمال کرنے والا ہر شخص ہیکرز کے نشانے پر،شکایات میں100فیصد اضافہ

اسمارٹ فون کے ذریعے ڈیٹا ، نجی معلومات لیک کرنا، مالی فراڈ جعل سازوں کیلئے نہایت آسان ہوگیا ہے، دنیا بھر میں جاسوسی اور فراڈ کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ، شکایات میں بھی 100 گنا اضافہ ہوگیا ہے۔

آن لائن جاسوسی، فراڈ یا ہیکنگ ایک گھناؤنا دھندہ ہے جس میں دنیا بھر سے جرائم پیشہ افراد ملو ث ہوتے ہیں، یہ دنیا میں کہیں سے بھی بیٹھ کر کسی بھی جگہ پر اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کی مدد سے کسی کو بھی لوٹ سکتے ہیں، بس یہ اپنے شکار کے موبائل میں ایک کوڈ جس میں کوئی وائرس چھپا ہوتا ہے بھیجتے ہیں، اور موبائل صارف کو کان و کان خبر ہونے سے پہلے موبائل میں موجود ڈیٹا جس میں ذاتی معلومات، پاسورڈز، اور دیگر اہم معلومات چرا لیتے ہیں۔

دنیا بھر میں آن لائن کرائمز میں 100 گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، سائبر کرائم ونگز میں شکایات کے انبار لگنا شروع ہوگئے ہیں، متعدد کیسز میں تو شکایات بھی درج نہیں ہوتیں، انٹرنیٹ کی مدد سے دنیا آپ کی انگلیوں پر تو آگئی ہے مگر یہ اتنی ہی غیر محفوظ بھی ہوگئی ہے، اس کی حفاظت کیلئے کوئی نظام کب تک لایا جاسکے گا یہ کہنا بھی قبل از وقت ہوگا۔

سائبر کرائم ایجنسی کے مطابق اس سال 47 ہزار سے زائد آن لائن کرائمز کی شکایات موصول ہوئی ہیں، ہر سال ان کی تعداد میں دو گنا اضافہ ہوتا جارہے اور یہ صرف ان کی تعداد ہے جو رپورٹ ہوتی ہیں، شائد اس سے کہیں زیادہ جرائم کی شکایات درج بھی نہیں ہوتیں۔

پاکستان میں شوبز انڈسٹری سمیت شہریوں کی بڑی تعداد بینکوں سے پیسے نکالے جانے کی شکایات کرتے نظر آتے ہیں، تاہم اس کی روک تھام کیلئے اب تک حکومتی سطح پر کوئی ڈیٹا پروٹیکشن سسٹم نہیں لایا گیا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >