نیب کو جنٹلمین احد چیمہ کو تین سال جیل میں رکھنے سے کیا ملا؟ سپریم کورٹ

کرپشن کیس: نیب کو احد چیمہ کو تین سال جیل میں رکھنے سے کیا ملا؟ سپریم کورٹ

سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کرپشن کے کیس کے ملزم کی ضمانت کی درخواست کی سماعت کی، سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے جیکب آباد اسکولوں میں کرپشن کے ملزم آزاد علی کی پانچ پانچ لاکھ کی دو گارنٹیوں کے عوض ضمانت منظور کرتے ہوئے ملزم کو رہا کر دیا۔

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران ملزم آزاد علی کے وکیل راجہ عامر عباس کا کہنا تھا کہ ملزم پر 34 لاکھ روپے کی کرپشن کا الزام ہے، جب کہ ملزمان الزام کی 34 لاکھ روپے کی رقم ادا بھی کر چکا ہے حالانکہ اسی ریفرنس میں نامزد دیگر ملزمان کی ضمانتیں منظور ہو چکی ہیں لیکن میرے موکل کی ضمات منظور نہیں کی جا رہی ہے، جس پر نیب کے وکیل عمران الحق نے ملزم کی ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کا دیگر ملزمان سے کیس منفرد ہے۔

نیب کے وکیل عمران الحق کا عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ملزم کی جانب سے جو اصل کرپشن کی گئی ہے وہ 34 لاکھ روپے سے کہیں زیادہ ہے اور صرف رقم جمع کروانے پر ملزمان کا جرم ختم نہیں ہوجاتا، ملزمان نے سندھ کے سرکاری سکولوں میں تعمیراتی کام کروائے بغیر ہی رقم وصول کی ہے، جو سنگین جرم ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال کا نیب کے وکیل عمران الحق سے استفسار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ملزمان کو حراست میں رکھنے کی مخصوص شرائط ہو سکتی ہیں، کیا اس کیس میں نیب کو ڈر ہے کہ ملزم بھاگ جائے گا، کل جسٹس مشیر عالم کی عدالت میں ایک ملزم کو ضمانت دی گئی، کتنے عرصے بعد اس جنٹلمین کو ضمانت ملی؟ جس پر نیب کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم احد چیمہ کو سپریم کورٹ سے دو سال نو ماہ بعد کل ضمانت ملی۔

جسٹس عمر عطا بندیال کا سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہنا تھا کہ نیب کو احد چیمہ کو تین سال جیل میں رکھنے سے کیا ملا؟ ضمانت کی مخالفت صرف اسی صورت ہو سکتی ہے جب ملزم سے معاشرے کو نقصان کا اندیشہ ہو، اگر نیب کو ملزمان کے حوالے سے خدشات ہیں تو عدالت اس پر حکم جاری کر سکتی ہے، نیب مقدمات میں ضمانتوں کی مخالفت صرف اصول کی بنیاد پر ہی کرے۔

کرپشن کے ملزم کی ضمانت کی درخواست کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر کا بھی کہنا تھا کہ ملزم ضمانت دینے سے بری نہیں ہوتا، ٹرائل کا سامنا کرنے سے ہی ملزم بری ہوسکتا ہے۔

    • Lets assume Ahad Cheema is corrupt, why his case is not concluded? NAB law demands to complete the case within 180days.
      Lets assume Ahad Cheema is innocent then what kind of remedy is available for him for this miseries going through it?


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >