نوازشریف کی تقریر نشر کرنے کے معاملے پر پٹیشن: غریدہ اور مہمل سرفراز کایوٹرن

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت نے اشتہاری اور مفرور ملزمان کے نقطہ نظر کو میڈیا پر نشر کرنے سے متعلق کیس میں 16 درخواست گزار سینئر صحافیوں میں سے 4 کی پٹیشن سے دستبرداری اور 2 کی متفرق درخواستیں واپس لینے کی استدعا منظور کرلی۔

گزشتہ ماہ اکتوبر میں اپوزیشن کی کثیر الجماعتی کانفرنس میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی تقریر براہ راست نشر ہونے کے بعد پیمرا نے سابق وزیراعظم کی تقریر براہ راست نشر کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ جس کے بعد انسانی حقوق کمیشن (ایچ آر سی پی) اور 16 صحافیوں جن میں اینکر پرسنز اور تجزیہ کار بھی شامل ہیں نے پیمرا کے حکم کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

ان درخواست گزاروں میں آئی اے رحمان، محمد ضیاالدین، سلیم صافی، زاہد حسین، عاصمہ شیرازی، سید اعجاز حیدر، منیزے جہانگیر، غازی صلاح الدین، زبیدہ مصطفیٰ، نجم سیٹھی، نسیم زہرہ، امبر رحیم شمسی، غریدہ فاروقی، مہمل سرفراز اور منصور علی خان کے نام شامل تھے۔

اب گزشتہ روز ہونے والی سماعت پر وکیل غلام شبیر نے غریدہ فاروقی، مہمل سرفراز، زاہد حسین، نسیم زہرہ، عاصمہ شیرازی اور سلیم صافی کی جانب سے پٹیشن سے اپنا نام خارج کروانے کی6 درخواستیں دائر کر دیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے غریدہ فاروقی اور مہمل سرفراز کی واپس لی گئی درخواست کو خارج کردیا۔

جس کے بعد چیف جسٹس نے پٹیشن سے 4 صحافیوں، سلیم صافی، نسیم زہرہ، عاصمہ شیرازی، زاہد حسین کے نام خارج کردیے۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ممانعت اپنے حق کے لحاظ سے آئینی طور پر غلط اور آئین کی دفعہ 19 اے کے تحت دیے گئے حقوق کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔یہ عمومی طور پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا حق ہے کہ کسی بھی شخص بشمول مجرم اور اشتہاری کا نقطہ نظر اور الفاظ ظاہر، شائع اور نشر کریں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >