شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں ڈرائیوروں سمیت مزید کرداروں کی انٹری

شریف برادران اوران کے خاندان کے خلاف کھلنے والے منی لانڈرنگ اور ٹی ٹی کی کیسز میں گوالوں، بجری فروشوں کے بعد اب ڈرائیور اور نئے نوٹ بیچنے والوں کی انٹری ہوئی ہے۔

قومی احتساب بیورو کی تحقیقاتی ٹیم نے شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ کیسز میں مزید ثبوت کو اپنی رپورٹس میں شامل کرلیا ہے، تحقیقاتی ٹیم کے مطابق شریف خاندان کیلئے منی لانڈرنگ کرنے والوں میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے لاہور آفس کے باہر نئے نوٹ فروخت کرنے والےمحبوب علی نامی ایک شخص کا انکشاف ہوا ہے۔

تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کے مطابق محبوب علی کے بے نامی اکاؤنٹ سے 10 لاکھ31 ہزار امریکی ڈالر کی ٹی ٹی حمزہ شہباز اور بیگم نصرت شہباز کے نام پر کی گئی، محبوب علی نے ایسی کسی بھی ٹرانزیکشن کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نہ ہی کبھی دبئی گئے نہ کبھی برطانیہ یہاں تک کہ محبوب علی کو کبھی بھی پاسپورٹ بھی جاری نہیں کیا گیا۔

شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں مزید کرداروں کی انٹری

ایک اور کردار جو سامنے آئے ان کا نام امت گل ہیں جو گزشتہ 15 برس سے دبئی میں ایک دکان پر سیلز مین ہیں، ان کی ماہانہ آمدنی 65 ہزار پاکستانی روپے بنتی ہے، ان کے جانب سے بھی 59 ہزار950 امریکی ڈالر کی ٹی ٹی لگائی گئی۔

شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں مزید کرداروں کی انٹری

اس کے علاوہ دبئی میں ہی مقیم ایک اور شخص رمیض شاہد کے نام پر 5 لاکھ 17 ہزار ڈالر کی ٹی ٹی لگوائی گئی، کراچی میں ایک کپڑے کی دکان پر کام کرنے والے کے نام پر ایک پر ایک لاکھ 99 ہزار ڈالر،موبائل شاپ پر کام کرنے والے خیال نواز کے نام پر 53 ہزار ڈالر، ڈرائیور عابد شاہ کے نام پر86 ہزار ڈالر ، دبئی کے ہی ایک اور ورکر نعمان کے نام پر48 ہزار ڈالر کی ٹی ٹی لگوائی گئی ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >