حیدر آباد، ملتان اور لودھراں انسانی اسمگلنگ کے گڑھ بن چکے ہیں، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ میں ڈیرہ غازی خان سے لاپتہ خاتون عاصمہ مجید کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی، دوران سماعت عدالت نے گمشدہ خاتون کی تلاش کیلئے تمام صوبوں کو تعاون کا حکم دیا۔

جنوبی پنجاب کے ایڈیشنل آئی جی ظفر اقبال عدالت میں پیش ہوئے تو انہوں نے عدالت سے خاتون کی بازیابی کیلئے مہلت طلب کی جس پر عدالت نے 2 ماہ کی مزید مہلت دے دی۔

جسٹس عمر بندیال نے کہا کہ انسانی حقوق کے مقدمات عدالت کیلئے بہت اہمیت کے حامل ہیں، گمشدگی بچوں کی ہو یا خواتین کی، عدالت تفریق نہیں کرتی۔

سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ رپورٹس کے مطابق ملتان، حیدرآباد اور لودھراں انسانی اسمگلنگ کے گڑھ ہیں۔ ساتھ ہی عدالت نے گمشدہ خاتون کے اہلخانہ کے وکیل کی سرزنش کردی۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ جو باتیں آپ کر رہے ہیں عدالت پولیس کو کہہ چکی ہے، آپ کہہ رہے ہیں کہ عدالت خاتون کو تلاش کرنے کا تحریری حکم دے، عدالت نے تو ابھی حکم لکھوایا ہی نہیں تو حکم کیسے دے دیا جائے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>