لوگوں کو انشاءاللہ پانچ سال میں ایک کروڑ نوکریاں اورگھر بھی ملیں گے ، وزیر اعظم

 

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ٹو دی پوائنٹ کو دیئے جانے والے انٹرویو میں میزبان منصور علی خان کے تند وتیز سوالوں کے جواب دیئے ہیں، پروگرام آج 28 نومبر کی شام 7 بج کر5 منٹ پر نشر کیا جائے گا۔ خصوصی پروگرام 2 گھنٹے میں نشر ہو گا۔

پروگرام ٹو دی پوائنٹ کے جاری کردہ پرومو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اینکر پرسن و میزبان منصور علی خان وزیراعظم سے مختلف سوالات پوچھے جیسا کہ انہوں نے کہا کہ عاصم سلیم باجوہ نے وزیراعظم کو استعفیٰ پیش کیا مگر انہوں نے تحقیقات کے بجائے کہا کہ وہ مطمئن ہیں کیا اس معاملے کی تحقیقات ضروری نہیں تھیں؟

اس کے علاوہ انہوں نےجہانگیر ترین کی پوزیشن پر سوال کیا، پرویز الہٰی سے متعلق سوال کیا کہ وزیراعظم نے کبھی ان کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہا تھا مگر پھر اتحاد بنا لیا کیا یہ سمجھوتہ تھا یا کچھ اور؟

ایک کروڑ نوکریاں دینے اور 50 لاکھ گھر بنانے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے یہ سب دینے کا وعدہ کیا تھا اور ان کی حکومت یہ سب دے گی بھی مگر اس کے لیے انہوں نے 2 سال کا وقت نہیں دیا تھا یہ سب 5 سال میں پورا ہونا تھا۔

  • افسوس ان میڈیا کے بلیک میلرز صحافیوں اینکرز والوں کا کوئی وژن ہی نہیں ھے محلے کی عورتوں کی طرح کے بچگانہ سؤالات پوچھتے ہیں وزیراعظم عمران خان کا ٹائم اور قوم کا ٹائم ضائع کرتے ہیں ان میڈیا والوں کے سوالات کا اسٹینڈرڈ محلے کی ماسیوں جیسا ھے جو بس لگائی بجھائی کا کام کرتی ہیں پچھلے دنوں ڈنگر ڈاکٹر شاھد مسعود مل کر آیا ،ابھی یہ منصور علی خان ملنے گیا ابھی ڈاکٹر معید ہیزادہ بھی پر تول رہا ھے اور کلھسڑا اور عامر متین بھی ایسی لیئے ھر وقت حکومت پر تنقید کرتے رہتے ہیں تاکہ ان بلیک میلرز کو وزیراعظم کی طرف سے انٹرویو کا ٹائم مل جائے یہ ھے پاکستان کے حرام خور میڈیا اور صحافیوں کے ٹولے کا اسٹینڈرڈ۔ کہ حکومت کو بلاوجہ تنقید کا نشانہ بناؤ تاکہ وزیراعظم عمران خان سے انٹرویو کا موقع مل جائے۔
    کبھی میڈیا کے کیسی ارسطو نے حکومت کی کامیابیوں کا ذکر نہیں کیا بہت تھوڑے حلالی چینلز اور حلالی اینکرز اور صحافی موجود ہیں۔
    جو بھی میڈیا کا اینکر اور صحافی حکومت پر تنقید کر رہا ہوتا ھے ان سب نے وزیراعظم کو انٹرویو کی درخواست دی ہوتی ھے تاکہ عوام میں یہ اینکرز اور صحافی اپنا نام بنا سکے

    • میڈیا کے حرام خور صحافیوں کا ٹولہ اور حرام خور اینکرز صرف اور صرف ذاتی مفادات کی خاطر ہی ٹی آئی کی گورنمنٹ کی کامیابیوں کا ذکر نہیں کرتے ان حرام خور صحافیوں کی میں ختم نہیں ہو رہی ھے ان بلیک میلرز صحافیوں سے حکومت بلیک میل نہیں ہو رہی ھے ہوتی موجودہ حکومت نے فری کی جہاز کے سیر سپاٹے اور حرام کی کمائی ختم کر دی ھے

      • میرے خیال سے وزیراعظم عمران خان آفس سے ابھی بہت سے بلیک میلرز صحافیوں نے انٹرویو کے لئے ٹائم مانگا ہوا ھے نمبر نمبر سے شاید ان کو ٹائم ملے جبکہ کہ ماضی میں ناواج شریف نے کبھی ان بلیک میلرز صحافیوں کے ٹولے کو کو انٹرویو نہیں دیئے بلکہ وہ ٹائم ٹائم سے ان بلیک میلرز صحافیوں کے ٹولے اور ان کے چینل مالکان کو ھڈی ڈال دیتا تھا


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >