او آئی سی کا یو این سے توہین مذہب کو جرم قرار دینے کا مطالبہ

توہین مذہب کو جرام قرار دیا جائے، اسلامی تعاون تنظیم نے اقوام متحدہ سے مذہب کی توہین کو جرم قرار دینے کا مطالبہ کردیا ہے،او آئی سی نے اقوام متحدہ سے مذہب کی بے حرمتی پر پابندی لگانے کے لیے قرار داد جاری کرنے کا بھی مطالبہ کردیا ہے،

تنظیم کا کہنا ہے کہ او آئی سی اسلام کودہشتگردی سے جوڑنے کی ایک بار پھر مخالفت کرتی ہے، اظہار رائے کی آزادی کا مطلب اقوام عالم کے درمیان تفرقہ پیدا کرنا نہیں،سیکریٹری جنرل او آئی سی ڈاکٹر یوسف العثیمین نے مسلم وزرائے خارجہ کے 47 ویں سیشن سے خطاب میں کہا کہ دہشتگردی بین الاقوامی مسئلہ ہے یہ عہدِ حاضر کا کینسر ہے،اسلام دشمن بیانیہ قابل مذمت ہے خواہ کوئی بھی اس کا مرتکب ہو، اسلام فوبیا کا سلسلہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی قراردادوں کے منافی ہے۔

سیشن سے خطاب میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسلامی ممالک بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں مظالم سے روکیں،وزیر خارجہ نے اجلاس میں خطاب کے دوران قرآن پاک کی بے حرمتی اور اسلاموفوبیا پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تجویز کیا کہ 15 مارچ کو’’اسلاموفوبیا کے مقابلے کا عالمی دن‘‘قرار دیا جائے ،

گستاخانہ خاکوں سے ایک ارب اسی کروڑ مسلمانوں کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچائی گئی ، ان شرمناک حرکات کو آزادی اظہار کے نام پر جواز نہیں دینا چاہیے،یہ شرمناک حرکت آزادی اظہار رائے کے نام پر نہیں ہوسکتی ہے اور نہ ہی اسے جائز قرار دیا جانا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سارے ممالک میں دائیں بازو کی انتہا پسندی کے عروج اور سیاسی دھارے سے مسلمانوں کے خلاف معاندانہ ماحول پیدا ہو رہا ہے اور اس نئی لعنت کے بارے میں شعور اجاگر کرنا بہت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کی پانچویں بڑی آبادی کے باوجود کوویڈ 19 پر قابو پانے میں کامیاب رہا ہے،جس کا اعتراف عالمی برادری نے بھی کیا جس کے شکرگزار ہیں،انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم ممالک کے ساتھ اپنے تجربات بانٹنے کے لئے تیار ہے۔ پاکستان بھی وبائی امراض کی وجہ سے مالی جگہ سکڑنے کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک کو درپیش چیلنجوں کو اجاگر کرنے اور ان پر کام کرنے میں سرفہرست تھا،

وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت میں ہندوتوا کی بڑھتی لہر نہ صرف بھارتی مسلمانوں بلکہ علاقائی سلامتی کے لئے بھی ایک سنگین خطرہ بن کر ابھری ہے،مودی حکومت ہندوستان کے 180 ملین سے زیادہ مسلمانوں پر منظم طریقے سے حملہ کررہی ہے،وزیر خارجہ نے کہا ہمیں ان جرائم کا جائزہ لینا چاہئے تاکہ ایسا نہ ہو کہ ہمیں ہندوستانی مسلمانوں کی ایک اور خون آلود صورتحال نظر آئے۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیرکی صورتحال اب بھی سنگین ہے،بھارتی قابض فوج کشمیریوں کی آواز کو خاموش کرنے اور ان کی مرضی کو توڑنے کے لئے ناقابل بیان مظالم کا ارتکاب کر رہی تھی،جب کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے آگے رہا تھا ، بھارت پاکستان میں دہشت گردی کا جال بنا رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی بھارت کی ریاستی سرپرستی کے بارے میں ایک ڈوزئیر تیار کیا ہے اور بین الاقوامی برادری کو ناقابل تسخیر ثبوت فراہم کیا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ او آئی سی اجتماعی طور پر ، اور مسلم ممالک انفرادی طور پر ، بھارت کو اس خطرناک راستے پر چلنے سے روکنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

شاہ محمود قریشی نے او آئی سی کی تعریف کی کہ وہ کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے انمول حق کے لئے جائز اور منصفانہ جدوجہد کی حمایت کرنے کی کوششوں میں سب سے آگے ہیں،انہوں نے کہا کہ سی ایف ایم کے لئے یہ مطالبہ کرنا ضروری ہے کہ بھارت اپنی غیر قانونی اور یکطرفہ کارروائیوں سے باز رہے،اجلاس میں شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب اورافغان وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں بھی کیں۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>