نواز شریف نے پیسوں سے بھرے بریف کیس دے کر حکومت بچائی؟

نواز شریف نے پیسوں سے بھرے بریف کیس دے کر حکومت بچائی؟

سینئر صحافی و تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے اپنے یوٹیوب چینل پر سابق چیف جسٹس ارشاد حسن خان کی کتاب ارشاد نامہ کا حوالہ دیا اور بتایا کہ سابق چیف جسٹس نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ نواز شریف نے عدلیہ کے حاضر سروس ججز کو پیسے دے کر اپنی حکومت بچائی تھی۔

اسی حوالے سے انہوں نے کہا کہ  موجودہ وزیراعظم عمران خان بھی متعدد بار نشاندہی کر چکے ہیں نواز شریف نے کوئٹہ میں ججز کو پیسوں سے بھرے بریف کیس بھجوائے اور اس طرح اپنی حکومت بچائی تھی۔

رؤف کلاسرا نے بتایا کہ سابق چیف جسٹس ارشاد حسن خان کے خلاف 3 بڑے تنازعات تھے جن کا انہوں نے اپنی کتاب میں جواب دیا ہے، جن میں سے پہلے نمبر پر ان کا پی سی او کے تحت حلف لینا تھا، ظفر علی شاہ کیس میں پرویز مشرف کو 3 سال کی مہلت دی اور جنرل پرویز مشرف کو آئین میں ترامیم کی اجازت دی اور ان کے چیف الیکشن کمشنر تعیناتی پر بھی سوال اٹھائے جاتے ہیں جس کا انہوں نے جواب دیا ہے۔

اس کے علاوہ رؤف کلاسرا نے بتایا کہ سب سے اہم الزام تھا کہ رفیق تارڑ سابق چیف جسٹس ارشاد حسن خان کے کوئٹہ بینچ میں ہوتے ہوئے بریف کیس لائے تھے اور ان پیسوں سے ججز کو خریدا گیا تھا۔

رؤف کلاسرا نے بتایا کہ کتاب کے صفحہ نمبر 241 پر ارشاد حسن خان نے لکھا ہے کہ میں خلیل الرحمان اور ناصر اسلم زاہد کوئٹہ میں تھے اور کوئٹہ میں ایک پٹیشن لائی گئی کہ سنیارٹی کی بنیاد پر سجاد علی شاہ کو چیف جسٹس تعینات نہیں کیا جا سکتا، انہوں نے بطور سینئر جج اس پٹیشن پر فیصلہ کیا اور حکومت کو نوٹس دیا کہ واقعی سجاد علی شاہ چیف جسٹس نہیں بن سکتے تھے اور پھر یہ فیصلہ فل کورٹ کو ریفر کر دیا گیا۔

ارشاد حسن خان نے مزید لکھا کہ اس کے بعد تمام 11 ججز نے فیصلہ کیا کہ سجاد علی شاہ کو فیصلے کے مطابق نااہل قرار دے دیں اور اس کے بعد اجمل میاں کو چیف جسٹس بنایا جائے۔

رفیق تارڑ کے حوالے سے سابق چیف جسٹس ارشاد حسن خان نے بتایا کہ ان کے رفیق تارڑ کے ساتھ کبھی بھی تعلقات اچھے نہیں رہے۔ انہوں نے اپنی کتاب میں بھی لکھا کہ ان کی سابق صدر رفیق تارڑ کے ساتھ لگتی تھی۔ کیونکہ رفیق تارڑ نے سابق چیف جسٹس سے حلف لیتے ہوئے کہا کہ ارشاد اللہ کی شان دیکھو کہ مجھے تم سے حلف لینا پڑ رہا ہے۔

ارشاد حسن خان نے لکھا کہ رفیق تارڑ نے کہا کہ اگر ان کے بس میں ہوتا تو وہ ان کو کبھی پاکستان کا چیف جسٹس نہ بننے دیتے اتنی مخالفت کے باوجود اگر وہ ان الزامات کی تائید کر دیں تو بالکل ان (رفیق تارڑ) کے کردار پر انگلیاں اٹھیں گی مگر اس کے باوجود یہ کہنا سچ کا قتل کر دینے کے مترادف ہو گا اگر یہ کہہ دیا جائے کہ وہ واقعی پیسے لیکر کوئٹہ گئے تھے۔

ارشاد حسن خان نے اپنی کتاب میں واضح طور نواز شریف اور ان پر لگے الزامات کی تردید کی انہوں نے کہا  کہ رفیق تارڑ قطعی طور پر کوئی پیسوں کےا بیگ لیکر کوئٹہ نہیں گئے تھے۔ کیونکہ یہ الزام سراسر جھوٹ اور بہتان ہے اس میں کوئی سچائی نہیں۔

  • وقت پیری گرگ ظالم مے شود پرہیزگار
    یہ بکے تھے اب مرنے کے قریب ہیں اور مومن بن رہے ہیں ایسے ججز ہی تو نواز شریف کی ترقی کے ضامن رہے ہیں
    ذرا انکی جائیدادیں بھی چیک کرلیں

    • اس سے بڑا حرامی جج صرف ملک قیوم کانا دجال تھا یہ حرامُزادہ جج اپنی حرام زدگی اور حرام خوری کو چھپانے کے واسطے یہ بھونک رہا ہے اور رفیق تارڑ جس کی حرام زدگی کا زمانہ گواہ ہے یہ حرام خور فراڈیا اسکو ایماندار ثابت کرکے اپنے آ پ کو بڑا حلالی ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے جب کے۔ اس کی حرام زدگی کے ثبوت موجود ہیں

      • آ ج تک کسی حرام زادے یا کسی چور یا کسی حرام زادے نے مونا ہے کہ وہ چور ہے حرامُزادہ ہے اگر نہیں تو ارشاد کیسے اپنے مونہہ سے مانے گا


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >