پاکستان علما کونسل نے 6 مسیحی افراد پر لگے توہینِ رسالت کے الزامات خارج کر دیے

مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے 6 افراد پر لگے توہینِ رسالت کے الزامات خارج

میڈیا رپورٹس کے مطابق مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے 6 افراد پر توہینِ رسالت کے الزامات لگائے گئے تھے، جنہیں چیئرمین پاکستان علماء کونسل کے مطابق خارج کر دیا گیا ہے اور الزامات کی زد میں آنے والے 6 افراد کو گھر بھیج دیا گیا ہے۔

چیئرمین پاکستان علماء کونسل طاہر محمود اشرفی کا  اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ ” مسیحی ورکرز پر لگائے گئے توہین رسالت کے الزامات غلط ثابت ہوئے، جس کے بعد الزامات کو خارج کردیا گیا ہے، تمام 6 افراد بحفاظت اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں”

پاکستان علماء کونسل کے چئیرمین طاہر محمود اشرفی کا ٹویٹر پر جاری اپنے پیغام میں مزید کہنا تھا کہ "توہین رسالت کے قانون کا آنے والے وقتوں میں غلط استعمال نہ ہو، اسی لیے اس سلسلے پر بہت گہری نظر رکھی جائے گی اور  وزیراعظم عمران خان کی یہ خاص ہدایات ہیں کہ بے گناہ افراد الزامات کی بنیاد پر جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہ جائے”

مذکورہ واقعے کے حوالے سے طاہر محمود اشرفی کا نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ توہین رسالت کا یہ واقعہ تین دن قبل پیش آیا تھا،  یہ 6 افراد خاکروب ہیں، جن پر حضور پاکﷺ سے متعلق پمفلٹ کوڑے دان میں پھیکنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے چھ افراد کی جانب سے توہین رسالت کا واقعہ سامنے آنے کے بعد پنجاب متحدہ علماء بورڈ میں اس واقعے کو اٹھایا گیا تھا اور پنجاب متحدہ علماء بورڈ کی جانب سے کی گئی تحقیقات کے بعد یہ فیصلہ دیا گیا تھا کہ جن لوگوں پر توہین رسالت کے الزامات لگے ہیں وہ پڑھے لکھے نہیں ہیں، لہذا بورڈ تمام افراد کو بے گناہ قرار دیتا ہے۔

  • اللہ کا شکر ہے ہماری علما کونسل کو بھی عقل ہے ورنہ بعض جاہل اور لعنتی لوگ تو اپنے زاتی دشمنیوں کی وجہ سے اقلیتوں پر الزامُ لگا کر قتل کرتے رہے ہیں۔ جیسے اسلام آ باد میں۔ ایک مولوی نے کیا تھا

  • الزام لگانے والوں کو گرفتار کب کیا جاے گا؟
    پمفلٹ چھاپنے والے بھی گرفتار کئے جائیں ہزاروں اشہارات دیواروں پر لگا دئیے جاتے ہیں جو سڑکوں پر گرے ملتے ہیں اگر خاکروب جھاڑو دیتے ہوے غلطی سے ان اشتہارات یا پمفلٹس کو چھو دے تو اس پر توہین اسلام کا قانون لاگو ہوجاتا ہے بلکہ اکثر موقع پر ہی مار دیا جاتا ہے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >