کراچی سے چوری اور چھینی گئی موٹر سائیکلوں کا خضدار میں بازار کا انکشاف

کراچی سے چوری اور چھینی گئی موٹر سائیکلوں کا خضدار میں بازار کا انکشاف

میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی سے ڈکیتی اور چوری کے دوران چرائی گئی یا چھینی گئی موٹر سائیکلوں کا بلوچستان کے علاقے خضدار میں بازار ہونے کا انکشاف ہوا ہے، یہاں پر موٹر سائیکلوں کو فی کلو کے حساب سے فروخت کیا جاتا ہے یا پھر ان کے پرزہ جات نکال کر بلیک میں فروخت کیے جاتے ہیں ۔

کراچی سے چوری یا چھینی گئی موٹر سائیکل بلوچستان کیسے پہنچتی ہیں کے حوالے سے بتاتے ہوئے پولیس حکام کا کہنا تھا کہ موٹر سائیکلیں حب، نورانی اور مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی بلوچستان پہنچتی ہیں، بلوچستان پہنچنے والی موٹر سائیکلوں کا خضدار میں باقاعدہ بازار لگتا ہے، چوری شدہ موٹر سائیکلوں کے زیادہ خریدار حب اور نورانی سمیت مختلف علاقوں میں موجود ہیں۔

پولیس حکام کا بتانا تھا کہ کراچی سے چوری کی گئی یا چھینی گئی موٹر سائیکل کا انجن اور چیسی نمبر پنچ کرکے خضدار بجوائیں جاتی ہیں، مذکورہ انکشافات اینٹی کار لفٹنگ سیل کی جانب سے گرفتار کیے گئے ایک ملزم نے اپنی گرفتاری کے بعد کیے ہیں۔

پولیس کا گرفتار ملزمان کے حوالے سے بتانا تھا کہ ملزم غلام علی ہندی کار لفٹنگ کے جرم میں پہلے بھی متعدد بار جیل جا چکا ہے اور چوری شدہ موٹر سائیکلوں سے حاصل کردہ رقم سے ملزم غلام علی پلاٹ بھی خرید چکا ہے، جبکہ چوری شدہ موٹر سائیکلوں کو بیچ کر جو رقم حاصل ہوتی ہے اسے اپنی رہائی کے لیے وکیلوں کی فیسوں کے طور پر بھی استعمال کرتا ہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>