خیبرپختونخوا صحت کارڈ سے کیسے مستفید ہوا جاسکتا ہے؟

نومبر کے آغاز میں وزیراعظم نے ملاکنڈ ڈویژن کے تمام اضلاع کے لئے صحت سہولت پروگرام کا اجرا کیا، جس سے ملاکنڈ ڈویژن کے تقریبا 12 لاکھ سے زائد خاندان مستفید ہوں گے،صحت سہولت پروگرام کس طرح فائدہ اٹھایا جاتا ہے، اس میں مسائل اور پیچیدگیاں کیا ہیں؟ اسی حوالے سے نجی ٹی وی نے ڈائریکٹر صحت سہولت پروگرام ڈاکٹر ریاض تنولی سے سوالات کئے۔

اس پروگرام سے خیبرپختونخوا کا ہر شہری مستفید ہوسکتا ہے، اس کا ڈومیسائل خیبرپختونخوا کا ہو، چاہے وہ کسی بھی ضلع سے تعلق رکھتا ہو،دوسرے صوبوں میں مقیم وہ لوگ جن کا ڈومیسائل یا شناختی کارڈ خیبرپختونخوا کا ہے، وہ بھی اپنے متعلقہ شہروں میں مفت علاج کی سہولت کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ صحت کارڈ کے پینل پر خیبرپختونخوا کے علاوہ دیگر شہروں کے اسپتالوں کو بھی شامل کیا گیا۔

خیبرپختونخوا صحت کارڈ سے فائدہ اٹھانے کیلئے کہیں کسی دفتر میں جاکر کوئی رجسٹریشن نہیں کرنی ، نہ ہی قطاروں میں لگ کر فارم جمع کروانے بلکہ آج کے بعد آپ کا قومی شناختی کارڈ ہی آپ کا صحت کارڈ تصور ہوگا، آپ کسی بھی اسپتال کے صحت کارڈ کاؤنٹر پر اپنا شناختی کارڈ دکھا کر علاج کروا سکتے ہیں،اس پروگرام کے لئے پختونخوا حکومت کا اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی سے معاہدہ ہوا جو تمام خاندانوں کے لئے سالانہ فی خاندان 2850 روپے سرکار سے لے کر یہ سہولت فراہم کرتی ہے۔

اس پروگرام کے تحت ہر خاندان کو 10 لاکھ روپے تک مفت علاج کی سہولت میسر ہوگی، خاندان سے مراد میاں بیوی، ان کے بچے اور بعض صورتوں میں جوائنٹ فیملی بھی ہوسکتی ہے، ڈاکٹر ریاض کے مطابق جو بھی شادی شدہ جوڑا اگر نادرا کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں تو انشورنس کمپنی کے پاس جو ڈیٹا نادرا کی طرف سے بھیجا جاتا ہے، اس میں یہ غیر رجسٹرڈ شادی شدہ جوڑا اپنے اپنے والدین کے ساتھ پینل میں شامل ہوتا ہے۔ اس لئے یہ شادی شدہ جوڑا اور ان کے بچے صحت سہولت سے محروم رہ جاتے ہیں یا وہ اپنے اپنے والد کے کارڈ پر علاج کے اہل ہوتے ہیں۔ اس صورت میں پوری جوائنٹ فیملی کیلئے بھی 10 لاکھ روپے ہی ہوں گے۔ْ

بچے 18 سال کے ہوکر شناختی کارڈ بنا لیتے ہیں مگر اس وقت چونکہ وہ غیرشادی شدہ ہوتے ہیں تو ان کے شناختی کارڈ پر بھی والدین کا خاندان نمبر درج ہوتا ہے۔ یعنی وہ نادرا کے ریکارڈ میں اپنے باپ کے خاندان کا حصہ ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کا علاج بھی والدین کے صحت کارڈ سے ہوگا۔ مگر وہ شادی کے بعد اپنا خاندان نمبر تبدیل کروانے کیلئے نادرا کو درخواست دے سکتے ہیں۔ اس کے بعد وہ الگ خاندان شمار ہوں گے۔

بچے جن کے شناختی کارڈ نہیں بنے ہوں، یا شادی شدہ نہ ہوں وہ اپنے والدین کے کارڈ پر علاج کے اہل ہوں گے جس کے لئے ضروری ہے کہ نادرا سے ان بچوں کے فارم ب بنوائے گئے ہوں۔ اس کے بعد ان بچوں کا علاج والدین کے کارڈ پر کیا جاسکتا ہے۔

خیبرپختونخوا میں ایک اندازے کے مطابق ایک خاندان اوسطاً 5 افراد پر مشتمل ہے۔ اسی اوسط کے ساتھ خیبرپختونخوا میں کل خاندان 80 لاکھ بنتے ہیں جبکہ قبائلی اضلاع کو ساتھ ملاکر پورے صوبے کی آبادی تقریبا 3 کروڑ سے زائد بنتی ہے۔ نادرا کے ریکارڈ کے مطابق صوبے کے 80 لاکھ خاندانوں کے لئے صحت سہولت پروگرام کا ڈیزائن تیار کیا گیا ہے جس کے لئے اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی سے معاہدہ ہوا ہے جو تمام خاندانوں کے لئے سالانہ فی خاندان 2850 روپے سرکار سے لے کر یہ سہولت فراہم کرتی ہے۔

اسپتالوں کو پینل پر لینے کے لئے ماہرین صحت پر مشتمل ایک اسسمنٹ ٹیم بنائی گئی ۔ جن جن اسپتالوں نے پینل میں شامل ہونے کے لئے پروفارمہ جمع کرایا ہوتا ہے، ماہرین ان اسپتالوں میں جاکر وہاں بستروں کی تعداد، نائٹ شفٹ، میجر اور مائنر اپریشن تھیٹرز اور دیگر سہولیات کو مدنظر رکھ ان کو پینل میں شامل کرنے کی منظوری دیتے ہیں۔ ابھی تک 300 اسپتالوں کو صحت سہولت پروگرام کے لئے پینل پر لیا جاچکا ہے جو کہ پورے صوبے میں علاج کی سہولت فراہم کریں گے۔ اسپتالوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔

کل ملا کر ایک خاندان کو 10 لاکھ روپے کا علاج ایک سال میں فراہم کیا جاتا ہے جن کو تین کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ دو لاکھ روپے ثانوی بیماریوں کے لئے جس میں چھوٹی بیماریوں کا علاج اور چھوٹے آپریشن کئے جاسکتے ہیں جس کے لئے اسپتال میں داخل ہونا لازمی ہوگا۔

دوسری کیٹیگری میں چار لاکھ روپے رکھے گئے ہیں جو پیچیدہ امراض کے لئے مختص کئے گئے ہیں جس میں بڑے آپریشن شامل ہیں۔ پیچیدہ امراض میں دس گروپ شامل ہیں جس میں کینسر، میجر ایکسیڈنٹ، جلنا، دل کے امراض، گردوں کی پیوندکاری، بریسٹ کینسر کی اسکریننگ اور اسی طرح دیگر بڑے بڑے اپریشن اس کیٹیگری میں شامل ہیں۔

کچھ مخصوص طویل مدت بیماریوں کے لئے چار لاکھ روپے رکھے گئے ہیں جیسا کہ کینسر، ایکسڈنٹ کا علاج اگر زیادہ دیر تک چلے، تو اس پر خرچ ہوں گے۔ اس کے لئے یہ چار لاکھ روپے صرف نادرا کی طرف سے دئے گئے ڈیٹا میں غریب لوگوں کو دستیاب ہوگا جسے ریزرو فنڈ بھی کہا جاتا ہے۔

ڈائریکٹر پروگرام ریاض تنولی کہتے ہیں کہ 31 جنوری کی تک پورا صوبہ اس پروگرام میں شامل ہوگا۔ ملاکنڈ ڈویژن میں اس کا اجرا ہوچکا ہے۔ اس کے بعد ہزارہ ڈویژن، کوہاٹ ڈویژن، ڈیرہ اسماعیل ڈویژن، مردان ڈویژن اور پھر پشاور ڈویژن میں اس کا اجرا ہوجائے گا۔ اس بار علیحدہ کارڈ کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ شناختی کارڈ ہی صحت سہولت کارڈ ہوگا۔

اس پروگرام کی خاص بات یہ ہے کہ اس پروگرام سے خواجہ سراء نادرا کے ساتھ بطور ایکس جنڈر رجسٹرڈ ہوں گے۔ ان کو صحت سہولت پروگرام کے تحت دس لاکھ تک کا علاج مل سکتا ہے۔ پروگرام ڈائریکٹر کے مطابق ہر ایک خواجہ سرا الگ خاندان تصور ہوگا بشرطیکہ وہ نادرا کے ساتھ بطور جنڈر ایکس رجسٹرڈ ہوں یا جن کا شناختی کارڈ جنڈر ایکس کا بنا ہو۔ جن خواجہ سراوں کو شناختی کارڈ جنڈر ایکس نہیں بنا، وہ اپنے والدین کے ساتھ صحت سہولت پروگرام میں علاج کرواسکتے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں 2017 قومی مردم شماری کے مطابق 1200 خواجہ سرا ہیں تاہم حقیقیت میں ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ پروگرام ڈایریکٹر کے مطابق ابھی تک صرف 250 خواجہ سرا ان کے پاس علیحدہ خاندان کے طور پر رجسٹرڈ ہیں اور جن کے شناختی کارڈ بھی جنڈر ایکس بنے ہیں۔

خیبرٹیچنگ اسپتال میں اس کارڈ کے تحت زیر علاج ایک مریض کے ساتھ کچھ وقت گزارا جس نے اس کارڈ کی تعریف کی مگر ساتھ میں کئی گلے شکوے اور شکایتیں بھی کیں۔

  • یہ ساری باتیں سوشل میڈیا پر بار بار شیر ہونے کی ہے
    کیا خیبر پختون خواہ کا کوئی کوئی پیج گروپ اکونٹ نہیں ؟؟جو اس معلومات کو بار بار شیر کرے ؟؟؟


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >