مالی سال 21-2020 کے پہلے 4 ماہ میں مہنگائی کی کیا صورتحال رہی؟

وزارت خزانہ کی جانب سے مالی سال 21-2020 کے پہلے چار ماہ جولائی تا اکتوبر کی جاری اقتصادری رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت بحالی کی راہ پرگامزن ہے، ان 4 ماہ میں اہم اقتصادی اشاریے معیشت کی بہتری اور مضبوط گروتھ کی عکاسی کررہے ہیں۔

وزارت خزانہ کے مطابق رواں مالی سال کے آئندہ مہینوں میں مہنگائی کے دباؤ میں کمی آئے گی۔وزارت خزانہ نے یہ بھی کہا ہے کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی معاشی بحالی کے سفرمیں کورونا وائرس کی وبا میں اضافہ ایک بڑا خطرہ ہے۔

وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق مالی سال کے پہلے 4ماہ کے دوران پاکستان کی غیر ملکی ترسیلات زر میں 26.5فیصد ، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 9.1فیصد اور ٹیکس ریونیو میں 4.5فیصد اضافہ ہوا ہےجبکہ برآمدات میں 10.3 فیصداور نان ٹیکس ریونیو میں 15.2فیصد کمی ہوئی ، درآمدات بھی 4فیصد کم ہوئی ہیں۔

رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ میں مالیاتی خسارے کا حجم 484ارب روپے ہے جبکہ گزشتہ برس اس عرصے میں بجٹ خسارے کا حجم 286ارب روپے تھا، چار ماہ کا بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 1.1فیصد ہے جو کہ گزشتہ برس اس عرصے میں 0.7فیصد تھا اس طرح گزشتہ برس کے مقابلے میں بجٹ خسارہ 198ارب روپے کااضافہ ہوا ہے۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی بڑھ گیا، مہنگائی کی اوسط شرح 8.9فیصد رہی گزشتہ برس یہ 10.3فیصد تھی ،جبکہ رواں ماہ کے اختتام تک مہنگائی کی شرح 8.5فیصد متوقع ہے۔

مہنگائی کی موجودہ بات کی جائے تو ایک ہفتے کے دوران مہنگائی میں 0.92فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، اب مہنگائی7.48فیصد رہ گئی، 11 اشیا مہنگی 10 سستی،30کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا۔

رواں مالی سال میں زرمبادلہ کے ذخائرمیں نمایاں اضافہ ہواہے، 20 نومبر2020 کو ختم ہونے والے ہفتے کے اختتام پر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم 20 ارب  55کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی سطح پرہے۔ 20 نومبر2019 کو ملکی زرمبادلہ کے ذخائرکاحجم 15 ارب 36کروڑ ڈالرتھا۔ ٹیکس ریونیو میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔

مالی سال کے پہلے چارماہ میں ایف بی آر نے 1340 ارب20کروڑ روپے کا ٹیکس ریونیو جمع کیا ، جوگزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے مقابلہ میں 4.5 فیصد زیادہ ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >