وزیر اعظم عمران خان کا جہانگیر ترین سے متعلق دوٹوک موقف سامنے آ گیا

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو دیا گیا، جس میں انہوں نے چینی سکینڈل کی جہانگیر ترین کی ملز کے خلاف جاری تحقیقات سے متعلق دوٹوک موقف اپناتے ہوئے کہا کہ چینی سکینڈل پر ملک کی تاریخ میں پہلی بار تحقیقات ہوئی ہیں، ہر مشکل وقت میں جہانگیر ترین تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کا نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں مزید کہنا تھا کہ جہانگیر ترین پارٹی میں ہیں نہ ہی ان کے پاس کوئی عہدہ ہے، جہانگیر ترین کہتے ہیں کہ وہ بے گناہ ہے لیکن چینی سکینڈل کی تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہوئیں، چینی سکینڈل کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حقائق سامنے آئیں گے، تاہم تحقیقات میں کسی قسم کی کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی۔

نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں عمران خان کا صوبائی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان پر کرپشن سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ادارے تحقیقات میں مکمل آزاد ہیں ہم اداروں میں کسی قسم کی کوئی مداخلت نہیں کر رہے، فردوس عاشق اعوان پر کرپشن کا کوئی کیس نہیں تھا وزیروں مشیروں پر لگنے والے الزامات کی تحقیقات تو میں خود آئی بی سے کرواتا ہوں۔

وزیراعظم عمران خان نے وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی قیادت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عثمان بزدار پسماندہ علاقے سے تعلق رکھتے ہیں لہذا وہ جانتے ہیں کہ پسماندہ علاقوں میں لوگ کس طرح زندگی گزار رہے ہیں،پانچ سال مکمل ہونے کے بعد وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نمبر ون وزیر اعلی بن جائیں گے۔

وزیراعظم کا عاصم سلیم باجوہ سے متعلق پوچھے گئے سوال پر جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ فوج کی جانب سے مجھ پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ہے، عاصم باجوہ کی تعیناتی سے متعلق مجھے کسی نے نہیں کہا تھا بلکہ میں نے خود ان کا تجربہ دیکھ کر انہیں چیئرمین سی پیک کے عہدے پر تعینات کیا تھا، عاصم سلیم باجوہ نے اپنے اوپر لگے الزامات کا تفصیلی جواب دے دیا تھا لیکن اگر ابھی بھی کسی کو ان پر کوئی اعتراض ہے تو وہ نیب سے رجوع کر سکتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا اپنے انٹرویو میں شریف خاندان پر مقدمات اور این آر او سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ آصف زرداری، شہباز شریف اور نواز شریف پر جو مقدمات ہیں یہ ان لوگوں نے خود ہی ایک دوسرے کے خلاف بنائے تھے، شہباز شریف کے خلاف اثاثہ جات ریکوری یونٹ کی تحقیقات کے بعد کیسز بنے، اپوزیشن نے فیٹف کے معاملے پر بلیک میل کر کے این آر او لینے کی کوشش کی، اپوزیشن حکومت سے صرف این آر او چاہتی ہے جو انہیں کسی صورت نہیں ملے گا۔

  • تنقید نہیں تم نے صرف اور بلوو دا بیلٹ اٹیک کیے ہیں
    تم لوگوں کا مقصد کسی کی اصلاح نہیں نہ قوم کی فقر ہے
    تمہارا مقصد اپنے مالکوں کو خوش کرنا ہے اسی لیے عوام سے گالیاں کھاتے ہو


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >