گیارہ برس قبل نجی اسپتال میں انتقال کرنے والی بچی کے موت کے ذمہ دار ڈاکٹرز قرار

گیارہ برس قبل نجی اسپتال میں انتقال کرنے والی بچی کے موت کے ذمہ دار ڈاکٹرز قرار

لاہور کے ڈاکٹرز ہسپتال میں 11 برس قبل انتقال کرنے والی تین سالہ ایمان ملک کی موت کا ذمہ دار ڈاکٹرز کو قرار دیدیا گیا ہے، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سمیت6 ڈاکٹرز کے لائسنس منسوخ کردیئے گئے۔

نجی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق11 برس قبل لاہور کے ڈاکٹرز ہسپتال میں 3 سالہ ایمان ملک کو اس کے والدین ہسپتال لائے کیونکہ اس کے ہاتھ پر جلنے کا نشان تھا، ہسپتال میں ڈاکٹرز نے بچی کو انیستھیزیا دیدیا جس کے بعد بچی کی موت واقع ہوگئی تھی۔

بدترین غفلت کا مظاہرہ کرنے پر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے اسپتال کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سمیت 6 ڈاکٹرز کے لائسنس منسوخ کردیئے ہیں۔

ایمان ملک کے دادا احمد ملک نے فیصلے پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر سندیپ کمار 11 برس سے لاپتا ہے، عدالت نے اسے اشتہاری قرا ر دیدیا ہے، مگر آج تک پنجاب پولیس اسے گرفتار نہیں کرسکی، ایمان کی موت کے 11 سال بعد یہ فیصلہ آیا ہے، 11 سال کے دوران یہ ڈاکٹر پتا نہیں کتنی زندگیاں نگل گیا ہوگا۔

احمد ملک نے مزید کہا کہ محکمانہ کمیٹی کی رپورٹ سے اس وقت تک مطمئن نہیں ہوسکتا جب تک ایمان ملک کا قاتل ڈاکٹر گرفتار نہیں ہوجاتا۔

  • Only 11 years later …. This council deserves a gold medal. So for the last 11 years, they probably continued their malpractices and who knows how many other people got disabled or lost their lives. Unbelievable !!!!

  • چیف جسٹس نے سچ کہا
    ڈاکٹرز ہسپتال میں ڈاکٹروں کی غفلت سے فوت ہونے والی بچی ایمان کے کیس کا 11 سال بعد فیصلہ
    اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 6 ڈاکٹرز کے لائسنس منسوخ
    لیکن 11 سال کیا ہوتا رہا؟؟؟؟

    اپنے گریباں میں جھانکنے کی ضرورت سب کو ہے چیف جسٹس صاحب


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >