ڈیرہ بگٹی میں حکومت کی جانب سےسینکڑوں معذور افراد میں مصنوعی اعضا تقسیم

3 دسمبر کو عالمی سطح پر معذوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے جسے اس بار حکومت کی جانب سے نئے انداز سے منایا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کے محکمہ بیت المال کی جانب سے 100 معذور پاکستانیوں کو مصنوعی اعضا فراہم کیے گئے تاکہ وہ دوبارہ زندگی میں آگے بڑھ سکیں۔

حکومت کی جانب سے پاکستان کو ریاست مدینہ بنائے جانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے اس بار 3 دسمبر جسے عالمی سطح پر معذوروں کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے اس دن پر صوبہ بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی میں 100 معذور افراد کا انتخاب کیا گیا جو کہ معذور تھے۔ انہیں مصنوعی ٹانگیں، پاؤں اور دیگر اعضا فراہم کر کے ان کی معذوری کے احساس کو ختم کیا گیا۔

یاد رہے کہ ڈیرہ بگٹی بلوچستان کے ان علاقوں میں سے ہے جو دہشتگردانہ کارروائیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں معذور ہونے والے بیشتر افراد وہ ہیں جنہوں نے کسی نہ کسی بم دھماکے یا کسی دہشتگردرانہ کارروائی کے نتیجے میں اپنی چلنے پھرنے کی صلاحیت گنوائی تھی۔

گزشتہ 8 سال سے ان معذور افراد اور اس علاقے کو کوئی خاص ترجیح نہیں دی گئی تھی۔ مگر موجودہ حکومت کے ادارہ پاکستان بیت المال نے ان معذور افراد کے احساس کمتری و محرومی کو ختم کرنے کے لیے "واک آف کرج” walk of courage کے نظریے سے ایک منصوبہ شروع کیا۔

پاکستان بیت المال کے ایم ڈی عون عباس بپی نے بتایا کہ انہوں نے جب ڈیرہ بگٹی میں لوگوں کے اس احساس معذوری و محرومی کو دیکھا تو انہوں نے ارادہ کر لیا کہ وہ ان لوگوں کو دوبارہ زندگی میں چلنے پھرنے کے قابل لازمی بنائیں گے۔
عون عباس بپی نے کہا کہ اس مقصد کے لیے انہوں نے ماہرین کی ٹیم کو بلوایا جنہوں نے ان معذور افراد کی ٹانگوں سمیت دیگر اعضا کی پیمائش کی اور جب وہ اعضا ان لوگوں کو لگائے گئے اور انہوں نے خود بخود چلنا شروع کیا تو مجھے ایسے لگا جیسے میرا بیت المال میں آنے کا مقصد اور وزیراعظم عمران خان کا پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا خواب پورا ہو گیا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >