کم عمر لڑکی سے ریپ کرنے والے ملزم کی اسی لڑکی کے ساتھ کورٹ میرج؟ ذمہ دار کون؟

کم عمر لڑکی سے ریپ کرنے والے ملزم کی اسی لڑکی کے ساتھ کورٹ میریج؟ ذمہ دار کون؟

خبر رساں ذرائع کے مطابق لاہور کے ایک علاقے سے بیوہ عورت کوثر بی بی نے تھانہ بادامی باغ میں پولیس کو رپورٹ درج کروائی کہ اس کے محلے میں دودھ دہی کی دکان والے کا 25 سالہ بیٹا گزشتہ ڈیڑھ سال سے میری بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنا رہا ہے، ملزم اگست 2018 سے میری کمسن بیٹی کو نازیبا تصاویر اور ویڈیوز بنا کر بلیک میل کر رہا ہے۔

کوثر بی بی کا بادامی باغ پولیس کو رپورٹ درج کرواتے ہوئے کہنا تھا کہ ملزم نے میری کمسن بیٹی کو دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے کسی کو بتایا تو وہ دوسری بہنوں کے ساتھ بھی وہی کرے گا جو وہ اس کے ساتھ کرتا رہا ہے، جس کی وجہ سے میری بیٹی ڈری رہی ہوں اور کسی کو اس بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

کوثر بی بی کی درخواست پر کیس کی ابتدائی تفتیش جوزف کالونی پولیس چوکی کے پاس آئی اور پولیس نے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 376 کے تحت ریپ کے جرم میں (جس کی سزا کم سے کم 10 سال اور زیادہ سے زیادہ سزائے موت ہے) ملزم امانت علی پر مقدمہ درج کر لیا اور اس کیس کی تفتیش تھانہ شاہدرہ میں ریپ کیس کے لیے بنایا گیا خصوصی سیل میں موجود خواتین پولیس افسران کو سونپ دی گئی۔

کوثر بی بی کی جانب سے دائر کروائی گئی درخواست پر تفتیشی تقریبا چھ ماہ تک چلی جس میں ملزم امانت علی کو قصور وار ٹھہرایا گیا اور تفتیشی رپورٹ عدالت میں جمع کروا دی،

تاہم ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لیے سیشن کورٹ سے قبل از گرفتاری ضمانت کروالی، سیشن کورٹ سے ضمانت مسترد ہونے کے بعد ملزم نے ضمانت قبل از گرفتاری کے لئے ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا۔

خبر رساں ادارے کے مطابق جب ملزم امانت علی نے ہائی کورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرنے کے لئے رجوع کیا تو ہائی کورٹ نے ملزم کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی اور جب اس کی گرفتاری کا امکان پیدا ہوا تم ملزم نے پانچ ہزار روپے حق مہر کے عوض کم عمر لڑکی سے کورٹ میرج کر لی اور قانون کے شکنجے سے بچ نکلا۔

بعد ازاں لڑکی کے چچا کا کورٹ میرج کے حوالے سے بتاتے ہوئے کہنا تھا کہ جس دن لڑکی کی کورٹ میرج ہوئی اس دن وہ گھر پر اکیلی تھی اور اس کی والدہ اور بہنیں گھر سے باہر کسی کام کے لئے گئی ہوئی تھیں، تاہم لڑکی کے رشتہ داروں نے اسے روشندان سے نکال کر ملزم کے ساتھ کورٹ لے جاکر کورٹ میرج کروا دی۔

نکاح کے روز ہی کم عمر لڑکی نے سیشن کورٹ میں بیان حلفی جمع کرواتے ہوئے کہا کہ ملزم امانت علی یعنی اس کے شوہر نے اسے کبھی زیادتی کا نشانہ نہیں بنایا، پولیس کو دی جانے والی درخواست میری والدہ کی جانب سے خود دی گئی ہے، میں نے اپنی مرضی سے ملزم کے ساتھ نکاح کرلیا ہے اور اس کے اس کی مزید پیروی نہیں کرنا چاہتی لہذا کیس خارج کرنے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں، جس پر سیشن کورٹ نے کیس خارج کرتے ہوئے نمٹا دیا۔

  • سیشن کورٹ کے جج پر صدقے جاواں کیا حرامی کی اولاد ہے یہ جج؟
    ارشد ملک جو کل مرگیا اس کی ویڈیوز دیکھ کر ان ججز کا تمام احوال سمجھ میں آگیا جو یہ کرتے ہیں، کورٹس کے اندر ریپ کے واقعات پر بھی کچھ نہیں کرتے اور صاف بچ نکلتے ہیں


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >