ملک میں سالانہ تین ارب ڈالر سے زائد کی روزمرہ استعمال کی اشیاء اسمگل ہونے کا انکشاف

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزارت تجارت کے سینئر نمائندوں اور ہارورڈ کے ماہرین معاشیات کی جانب سے حالیہ تیار کردہ ایک تازہ ترین رپورٹ جاری کی گئی ہے، جس میں حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان میں سالانہ تین ارب ڈالر سے زائد کی روزمرہ کی اشیاء سمگل ہو رہی ہیں، اتنی بڑی مقدار میں سمگل ہونے والی اشیاء کی بنیادی وجہ سرحدوں پر غیر مناسب جانچ پڑتال کا نظام ہے۔

جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سرحدوں پر مناسب جانچ پڑتال کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کے ہمسایہ ملک بالخصوص افغانستان اور ایران سے بآسانی بڑی مقدار میں روزمرہ استعمال کی اشیاء سمگل ہو کر پاکستان آ رہی ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ اربوں ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، انہوں نے کہا کہ سمگل ہونے والی اشیاء میں سے مجموعی طور پر صرف پانچ فیصد اشیاء قانون نافذکرنے والے ادارے اور ریگولیٹری اداروں کی جانب سے ضبط کی گئی ہیں۔

وزارت تجارت کے سینئر رہنماؤں اور ہارورڈ کہ ماہرین معاشیات کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ہمسایہ ممالک سے سمگل ہونے والی اشیاء میں سگریٹ کہا مارکیٹ شیر 20 فیصد ہے، انہوں نے بتایا کہ دیگر اشیا کے مقابلے میں سمگل شدہ تمباکو نوشی کی مصنوعات کی با آسانی سے نشاندہی کی جا سکتی ہے کیوں کہ ان مصنوعات پر وزارت صحت، سروسز، ریگولیشنز اور کورڈینیشن کے مقرر کردہ گرافکس اور ٹیکسٹ وارننگ ان کی پیکنگ پر شائع نہیں ہوتے ہیں، لیکن اس کے باوجود حکام کی جانب سے اس کی نشاندہی نہیں کی جاتی۔

دوسری جانب اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ ان تمام صورتحال کے باوجود، اسلام آباد میں وزارت صحت کے دفتر کے 10 کلو میٹر کے اطراف میں سپر اسٹورز، پان کھوکے اور دکانوں پر اسمگل شدہ سگریٹ کھلے عام فروخت کی جارہی ہیں جوکہ وزارت صحت کے جاری کردہ قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، دارالحکومت اسلام آباد میں ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں سمگل شدہ اشیا کی خرید و فروخت کی جارہی ہے۔

جہاں ایک طرف وزارت صحت موجودہ قوانین کے موثر نفاذ کو یقینی بنانے کے بجائے صحت انتباہ کی تشہیر کے حوالے سے زیادہ فکر مند دکھائی دیتی ہے، وہی دوسری طرف غیر قانونی اسمگل شدہ سگریٹ ڈبے پر60 فیصد گرافکس ہیلتھ وارننگ شائع نہ ہونے کے باوجود سر عام فروخت ہو رہی ہیں، جنہیں کوئی پوچھنے والے نہیں ہے۔

جاری کردہ رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان کی 40 فیصد تمباکونوشی کی صنعت پر اسمگل شدہ تمباکو نوشی کی مصنوعات کا غلبہ ہے، جس کی وجہ سے حکام کو ٹیکس وصولی میں 70 ارب روپے کا نقصان پہنچتا ہے، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فوری طور پر حرکت میں آ کر ٹیکس وصولی میں 70 ارب روپے کا نقصان ہونے سے بچانا ہوگا۔

 

  • پاکستانی ایک کرپٹ قوم ہے اسلئے ایک پاکستانی دوسرے پاکستانی کی کرپشن
    بلکل نہیں روک سکتا ..عمران خان کو چاہئیے باکس سے باہر نکل کر اسکا حل
    تلاش کریں….کہیں سے چند ہزار گورے انٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ میں اچھی پے پر
    بھرتی کریں….پھر دیکھیں الله کیا کرتا ہے …
    اگر عمران خان نے کرپشن پر قابو پا لیا تو یقین کریں پاکستان سے زیادہ امیر
    کوئی اور ملک ہے نہیں


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >