لگتا ہے ٹاپ مین کو بلانا پڑے گا، لاہور ہائیکورٹ میں قادیانیوں کے خلیفہ کا نام گوگل سے ہٹانے کیلئے درخواست

لاہور ہائیکورٹ میں قادیانیوں کے خلیفہ کا نام گوگل سے ہٹانے کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی جس کی سماعت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان نے کی۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے درخواست میں نامزد تمام فریقین کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت ایسا نہیں چاہتی کے گوگل، فیس بک اور ٹوئٹر وغیرہ کے استعمال پر پابندی لگائی جائے کیونکہ سوشل میڈیا غلط نہیں مگر اس کا غلط استعمال کیا جاتا ہے۔

چیف جسٹس قاسم خان نے کہا کہ اگر حکومت پب جی گیم پر پابندی لگا سکتی ہے تو ایسے اقدام پر فوری فیصلہ کیوں نہیں کیا گیا؟

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری وکیل پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ریاست مدینہ کا نعرہ لگانا بہت آسان ہے، حکومت ایسے کیسز خود دائر کرتی ہے، گوگل پر پچھلے 20 سے 22 دن سے چل رہا ہے مگر حکومت سوئی ہوئی ہے۔ یہاں پر قانونی تحفظ تو لے لیں گے مگر قبر میں خود جواب دینا ہو گا، مجھے لگتا ہے ٹاپ مین (وزیراعظم) کو بلانا پڑے گا۔

اس سلسلے میں دائر درخواست میں وکیل کی جانب سے موقف اپنایا گیا تھا کہ آئین کے تحت قادیانی اپنے مذہب کی تبلیغ نہیں کرسکتے لیکن گوگل سرچ کے ذریعے قادیانی تبلیغ کر رہے ہیں۔ عدالت نے سماعت آئندہ ہفتے کے شروع (پیر) تک ملتوی کر دی۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >