مدارس کے بچوں کو پی ڈی ایم جلسوں میں لانے کے خلاف حکومت کا بڑااقدام

پی ڈی ایم کو احتجاج کے لیے اب مدارس کے بچے نہیں ملیں گے؟ حکومت کیا کرنے جا رہی ہے

وفاقی حکومت نے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے احتجاج میں مدارس کے بچوں کی شمولیت روکنے کا پلان بنا لیا ہے۔ وزیراعظم نے اس حوالے سے وزیر داخلہ شیخ رشید کو ٹاسک سونپ دیا۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق آج مدارس کے علما اور منتظمین سے ملاقات کریں گے جس میں حکومتی پالیسی واضح کر کے انہیں اعتماد میں لیا جائے گا۔

یاد رہے کہ پی ڈی ایم کے جلسوں میں مدارس کے بچوں کی شمولیت کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا تھا کہ مذہب کی آڑ میں کسی کو سیاست کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

مدارس کے بچوں کے حوالے اس نئے پلان کی وجہ پی ڈی ایم کی حکومت مخالف تحریک ہے جس کے تحت سربراہ مولانا فضل الرحمان 31 جنوری تک وزیراعظم سے استعفیٰ طلب کیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان 31 جنوری تک استعفیٰ دیں ورنہ وہ اپنے کارکنوں کے ہمراہ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کریں گے۔ اسی سلسلے میں پی ڈی ایم نے19 جنوری کو الیکشن کمیشن پاکستان کے سامنے بھی احتجاج کا فیصلہ کر رکھا ہے۔

  • حکومت کا بہت اچھا اقدام ھے مدرسے کے بچوں کو اس فضلہ ڈیزل نے اپنے غلام بنائے ہوئے ہیں ان مدارسوں کے بچوں کے نام پر چندے وصول کرنے والا یہ دین فروش بہت بری طرح سے بچوں کی تذلیل کر رہا ھے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر مدرسوں کے بچوں کو استعمال کر رہا ھے تمام علماء اسلام کو اس دین فروش مذہب فروش فرقہ فروش قوم فروش فضل ڈیزلے کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے ھے فتوے دینے چاہئیں کیونکہ یہ مدرسوں کے بچوں کو آپنی کرپشن کو بچانے کے لیئے اور اپنے ذاتی مفادات کی خاطر استعمال کرتا آرہا ھے

  • فضل الرحمان نواز اور زرداری کی طرح ایک ناسور ہے لیکن صرف اس کی وجہ سے مدارس کے طلبا کے سیاسی عمل میں حصہ لینے پر قدغن نہی لگانی چاہیئے۔ جب کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبا یہی کام پی ٹی آئی کے لئے کرنے کے لئے آزاد ہیں تو مدارس کے طلبہ بھی یہ حق رکھتے ہیں کہ پی ڈی ایم یا تحریک انصاف کی حمایت میں سیاسی عمل میں حصہ لیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >