شہزاد اکبر پر لگائے گئے الزامات غلط؟براڈ شیٹ کے سربراہ کا بیان سامنے آ گیا

شہزاد اکبر پر لگائے گئے الزامات غلط؟ کاوے موساوی نے کہا کہ رشوت مانگنے والے پاکستانی عہدیدار کے ساتھ شہزاد اکبر نہیں تھے

گزشتہ سال لندن میں براڈ شیٹ ایسیٹ ریکوری فرم کے سی ای او سے ایک پاکستانی عہدیدار نے ملاقات کی تاکہ سیاست دانوں اور دیگر افراد کے مبینہ اثاثوں کا کھوج لگانے کیلئے نیا معاہدہ کیا جا سکے۔ اس حوالے سے مریم اورنگزیب نے الزام لگایا کہ اس ملاقات میں شہزاداکبر موجود تھے اور انہوں نے 50فیصد کمیشن مانگی تھی۔

براڈ شیٹ کے سی ای او کاوے موساوی نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر اس شخص کے ساتھ موجود نہیں تھے۔ اس ملاقات میں نیب کے ساتھ تمام معاملات اور پہلوؤں پر بات ہوئی مگر انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس جب اس پاکستانی عہدیدار نے اُن سے رشوت مانگی تھی تو اس وقت شہزاد اکبر موجود نہیں تھے۔

کاوے موساوی نے شہزاد اکبر پر اپنی تنقید کی وجہ یہ بتائی کہ انہوں نے درست انداز سے بات چیت نہیں کی جس کی وجہ سے مسائل کے حل کیلئے مذاکرات میں ناکامی ہوئی۔

موساوی نے کہا کہ انہوں نے شہزاد اکبر سے دو مرتبہ ملاقات کی جن میں سے ایک رائل گارڈنز ہوٹل اور دوسری چیلسی آرٹس کلب میں ہوئی جس میں مقدمہ بازی کے خاتمے پر بات ہوئی لیکن شہزاد اکبر اُس وقت موجود نہیں تھے جب کیفے راؤج میں ایک پاکستانی عہدیدار کے ساتھ ملاقات ہوئی۔

مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے اس ملاقات کے حوالے سے الزام لگایا گیا تھا کہ ایک نامعلوم شخص شہزاد اکبر کے ساتھ مل کر موساوی سے ملاقات کے لیے گیا تھا اور یہ شخص مشتبہ افراد کیخلاف تحقیقات کی بجائے اپنے حصے میں زیادہ دلچسپی رکھتا تھا۔

کاوے موساوی نے یہ بھی کہا کہ نوازشریف خاندان یہ کہنے کی کوشش کر رہا ہے کہ لندن عدالت میں انہیں ایون فیلڈ کیس سے بری کردیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اس سلسلے میں عدالت میں دائر درخواست واپس لینی تھی۔

  • لعنت ہے لفافہ میڈیا پر جو شریف خاندان جیسے بدکردار سرٹیفائیڈ چوروں اور جھوٹوں کو کوٹ کرتے ہیں جنہوں نے کبھی سچ بولا ہی نہیں
    مجھے جب کہتے ہے مریم یا نواز یا زرداری نے یہ بکواس کیا ہے تو میں کہتا ہوں
    تو کیا ہوا جھوٹ ہی گا


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >