کرک مندر کیس، لاپرواہی برتنے والے کئی پولیس اہلکاروں کو نوکری سے برطرف کر دیا گیا

خیبر پختونخوا کے ضلع کرک کے علاقے ٹیری ٹاؤن میں ہندوؤں کے مندر کو جلائے جانے کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں ہجوم میں شامل افراد نے مندر کو آگ لگا کر ہندوؤں کے مذہبی مقام کی بے حرمتی کی تھی۔ اس حوالے سے کے پی کے صوبائی مشیر کامران بنگش نے بتایا کہ اس واقعہ لاپرواہی برتنے والے 12 پولیس اہلکاروں کو ان کی نوکری سے برطرف کر دیا گیا ہے۔

صوبائی مشیر اطلاعات کامران بنگش نے یہ بھی کہا کہ سزا کے طور پر 33 پولیس اہلکاروں کی ایک سالہ سروس بھی ضبط کرلی گئی ہے۔ واقعے کی ایف آئی آر درج کر کے متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ میں ہونے والی گزشتہ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اس مندر کو 2 ہفتوں میں بحال کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا تھا کہ اس مندر کی بحالی کے اخراجات مولوی شریف اور اس کے ساتھیوں سے لیے جائیں۔

چیف سیکرٹری نے کہا تھا کہ فوری طور پر بحالی کے بعد ذمہ داروں سے اخراجات وصول کیے جائیں گے۔ پولیس اہلکاروں سے متعلق بتایا گیا تھا کہ ڈیوٹی پر مامور 92 اہکاروں کو معطل کیا گیا۔ جس پر عدالت نے کہا تھا کہ صرف معطلی کافی نہیں ہے۔

واقعہ میں ملوث اہم ملزم مولوی فیض اﷲ کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزم نے مندر مسمارکرنے کیلئے لوگوں کو اکٹھا کرنے میں معاونت کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق مندرکومسمار کرنے میں ملوث 110 افراد کو گرفتار کیاجا چکا ہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>